
ایکنا نیوز- پانچویں بین المذاہب کانفرنس جو«شدت پسندی کے پس منظر ،اسلامی اور عیسائی معاشرے میں مواقع ـ بحران اور راہ حل» کے عنوان سے ابوزر ابراھیمی کی زیرنگرانی ادارہ ثقافت و تعلقات اسلامی اور سویزرلینڈ کے پادری کونسل کے درمیان منعقد کی گیی ہے اس سے خطاب میں عالم اسلام کے مسایل میں رہبر معظم کے مشیر خصوصی آيتالله شیخ محمدعلی تسخيری نے کہا: اخلاق کی کمی شدت پسندی کی اہم وجہ ہے جبکہ استعمار،تکبر اور برتری طلبی دیگر عوامل میں سے ہیں
انکا کہنا تھا: اس دور میں جب کہ توقع تھی کہ امن و امان کا راج ہوگا انسانوں میں شدت پسندی کا غلبہ افسوسناک ہے اور گھریلو مسایل سے لیکر حکومتی دہشت گردی حیران کن ہے۔
آیتالله تسخيری نے کہا کہ شدت پسندی صرف اسلامی یا عیسائی معاشرے سے مخصوص نہیں بلکہ تمام معاشروں میں اسکے اثرات موجود ہیں اور جب تک نادانی و جہالت باقی ہے شدت پسندی باقی رہے گی اور اسکا حل درست الہی احکامات کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے تبدیلی کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی: «إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ ما بِقَومٍ حَتّى يُغَيِّروا ما بِأَنفُسِهِم»(جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے خدا بھی تبدیلی لانے والا نہیں).
رہبر معظم کے مشیر نے کہا کہ علما اور دانشوروں کا سیاست دانوں کا آلہ کار نہیں بلکہ تبدیلی کے لیے ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
انکا کہنا تھا کہ اگر ہم خدا کو اور اپنے آپ کو درست سمجھ لیں تو بہت کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔
کانفرنس سے عیسائی دانشور اور پادری «آلن ڈی رائمی»، نے حضرت مسيح (ع) کو امن و محبت کا علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا : ان تعلیمات پر عمل سے شدت پسندی ختم ہوسکتی ہے اور عیسائی دنیا میں علما کو اس کی تروج کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پادری کونسل کے رکن رومان اسٹاگر نے افسانوی شخصیت «نيكولای فلو» جس نے سویزرلینڈ میں داخلی جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا انکو ایک بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا : وہ نہ صرف ایک پادری، بلکہ ایک جج،ایک مہربان باپ اور مشیر تھا جس نے انسانوں میں خدا کی تعلیمات کو عام کرایا
قابل ذکر ہے کہ انسانی معاشروں میں شدت پسندی کے اثرات، علما کی ذمہ داری ، حکومتی وظایف اور دیگر مختلف شدت پسندی کے اثرات و مشکلات پر مباحثے اس نسشت میں شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس کا چوتھا مرحلہ سویزرلینڈ میں «معاشرے میں مذہب کا کردار» کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا۔