
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «Al Monitor» کے مطابق غزہ میں سماعت سے محروم پانچ سو نوجوانوں اور جوانوں کے لیے تعلیم قرآن کا کورس شروع کیا گیا ہے
قرآن کورس فلاحی ادارے «عید بن محمد الثانی» کی مالی مدد سے غزہ کے چودہ قرآنی مرکز میں شروع کیا گیا ہے جسکی ہرکلاس میں بیس طلبا شریک ہیں۔
کلاس میں شریک طالب علم مروت حمدان نے اشاروں کی زبان میں کہا : بہت خوش ہوں کہ چند آیات سیکھنے کے بعد حفظ کیا اور تفسیر سے بھی استفادہ کیا ، میری آنکھیں بھی کمزور ہیں مگر یہاں خط بریل میں سکھایا جاتا ہے جو بہت مفید ہے۔
انکا کہنا تھا: مجھے بہت شوق تھا مگر اشاروں کی زبان میں قرآن سیکھانے کا یہاں انتظام نہ تھا مگر اب بہت خوشی ہوئی ہے۔
قرآنی کلاس کے استاد کا کہنا ہے کہ ہر قرآن حرف کو خاص اشاروں اور علامت سے سمجھایا جاتا ہے اور حفظ کے لیے ویڈیو کی خدمات حاصل کی جاتی ہے۔
مذکور انجن کے سربراہ احمد عید کا کہنا ہے کہ فلسطین میں دس سال پہلے سماعت سے محروم افراد حتی رسول اکرم (ص) کے بارے میں بہت کم جانتے تھے مگر آج حالات بدل گیے ہیں اور وہ حتی قرآنی آیات سے بہت حد تک واقف ہوچکے ہیں۔
فلسطین سوشل ویلفیر کی وزارت کے مطابق ملک میں ڈھائی ہزار سماعت سے محروم بزرگ افراد موجود ہیں جبکہ ڈیڑھ ہزار افراد اٹھارہ سال سے کم عمر کے جوان بھی یہاں آباد ہیں۔
بہر صورت سماعت سے محروم طلباء کے لیے قرآنی کلاسز کو ہر طبقے کی جانب سے سراہا جارہا ہے۔