غنڈوں کی زبان بولتا صدر

IQNA

غنڈوں کی زبان بولتا صدر

11:48 - September 21, 2017
خبر کا کوڈ: 3503566
بین الاقوامی گروپ:قوم پرستانہ لب و لہجہ کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ امریکہ میں اپنے ووٹروں کو یہ باور کروا سکیں کہ وہ ان انتہا پسندانہ نعروں سے سرمو انحراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں

ایکنا نیوز- شفقنا- امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے اور دنیا پر امریکی مرضی ٹھونسنے کے لئے طاقت کے استعمال کی جس طرح دھمکیاں دی ہیں، اس سے نہ صرف امریکی صدر کے عہدہ کی کا وقار کم ہؤا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو مفاہمت، دوستی اور تنازعات حل کرنے کی جگہ سمجھنے اور بنانے کی کوشش کرنے کی بجائے، اسے جنگ کرنے اور اشتعال دلانے کے لئے استعمال کرنے ایک نہایت بھیانک اور افسوسناک روایت قائم کی گئی ہے۔ ٹرمپ کی تقریر کسی انتہا پسند اور جنگجو ذہنیت رکھنے والے ایک ایسے قوم پرست کی گفتگو تھی جو اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ ان کے قوم پرستانہ لب و لہجہ کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ امریکہ میں اپنے ووٹروں کو یہ باور کروا سکیں کہ وہ ان انتہا پسندانہ نعروں سے سرمو انحراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جن کی وجہ سے ٹرمپ اپنے ملک کے انتہا پسند گروہوں کی حمایت حاصل کرنے اور اس طرح انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

قومی سیاست میں درپیش مسائل کا سامنا کرنے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ کو استعمال کرکے ٹرمپ نے یہ واضح کیا ہے کہ ان کے لئے ایک خاص گروہ میں مقبولیت برقرار رکھنا بے حد اہم ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی گروہ کی غیرمتزلزل حمایت کی وجہ سے وہ اپنے سیاسی مخالفین سے نمٹ سکتے ہیں اور اپنی صدارت کو لاحق خطرات اور چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ تاہم امریکہ جیسے بڑے ملک کے صدر کا یہ لب و لہجہ کسی سفارت کار ، سیاست دان یا کسی اعلیٰ اور ذمہ دار عہدہ پر فائز شخص کا نہیں بلکہ محلے کے کسی ایسے غنڈے کی زبان لگتی تھی جو دھمکیاں دے کر کمزور لوگوں کو مرعوب اور شریفوں کو خوفزدہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کررہا ہو۔ لیکن کسی دوسرے طاقتور کا ذکر کرتے ہوئے گھگھیانے لگے۔ صدر ٹرمپ نے بھی شمالی کوریا، ایران اور وینزویلا کے بارے بات کرتے ہوئے جوش میں ہوش کھونے کا رویہ اختیار کیا لیکن چین اور روس کا ذکر کرتے ہوئے وہ شمالی کوریا کے خلاف قرارداد پر ان کی حمایت کا شکریہ کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ شمالی کوریا کے ساتھ کاروبار کرنے والے ملکوں کا بلاواسطہ حوالہ دیتے ہوئے ، وہ چین اور روس کا نام زبان پر لانے کا حوصلہ نہ کرسکے۔

امریکہ کے منہ زور صدر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ یا اس کے حلیف ملکوں کی حفاظت درپیش ہوئی تو امریکہ ، شمالی کوریا کو تباہ کردے گا۔ اس سے پہلے بھی ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کو آگ اور خون میں نہلا دینے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ میں دنیا بھر کے لیڈروں کے سامنے اس قسم کی بد زبانی سے نہ تو امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور نہ ہی امریکہ یا اس کے صدر کے اعتبار و احترام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا بھر کے ملکوں کے درمیان تنازعات کو حل کروانے کی جگہ ہے۔ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ ادارہ دنیا کے متعدد ملکوں کے درمیان جنگ، اختلافات اور فساد کو ختم کروانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والے ملک کا صدر ہی اگر جنگ مسلط کرنے اور دور و نزدیک ملکوں کے خلاف زور ذبردستی کرنے کا اعلان کرے گا تو اس سے اقوام متحدہ کی حیثیت بھی کمزور ہوگی۔ اس لحاظ سے دنیا بھر کے لیڈروں کا فرض ہے کہ وہ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز رویہ کا نوٹس لیں اور واضح کریں کہ دھمکیاں دینے اور اپنے مفادات کے لئے باقی دنیا کو نظر انداز کرنے کی باتیں کرنے والا صدر امریکہ اور دنیا کے لئے یکساں خطرناک اور نقصان کا سبب ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو تنقید نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا سبب بنا ہؤا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ایرانی قیادت نے جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کی ہے اور ایران کی اعلیٰ ثقافتی اقدارکو تباہ کرکے اپنے ملک کو ایک ’غنڈہ‘ ریاست میں تبدیل کردیا ہے جو تشدد، خوں ریزی اور انتشار برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر سابق صدر اوباما کے دور میں ایران اور چھ ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو بدترین عالمی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہؤا۔ انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ امریکہ اس معاہدہ کو ختم کرنے کے لئے اقدام کرے گا۔ صدر ٹرمپ کا یہ احمقانہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی جوہری ادارے کے انسپکٹروں نے رپورٹ دی ہے کہ ایران اس ایٹمی معاہدے پر پوری طرح عمل کررہا ہے ۔ اس طرح عملی طور پر ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ دنیا کو جوہری تصادم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے میں کامیاب ہؤا ہے۔

شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کو ’راکٹ مین ‘ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ خود کش حملہ کی تیاری کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی پالیسیوں کو جابرانہ اور آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوشلزم لوگوں کی ضروتیں پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے ہمسایہ میں اس انتشار اور بد امنی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لئے اگر وینزویلا کی حکومت اپنے عوام کے خلاف کارروائیوں سے باز نہ آئی تو امریکہ اپنے طور پر اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔

ایک طاقتور ملک کے صدر کی طرف سے دنیا کے تین ملکوں اور ان قیادت کے خلاف توہین آمیز اور دھمکیوں سے بھرپور زبان دنیا میں تصادم کو روکنے کی بجائے اس میں اضافہ کا سبب بنے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد عالمی امن کا ایجنڈا سخت خطرے کا شکار ہے۔ عالمی لیڈروں کو امریکہ کے حجم اور اثر و رسوخ سے قطع نظر اس کے غیر ذمہ دار اور کوتاہ نظر صدر کے طرز عمل کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کی باتیں ’زبانی دہشت گردی‘ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں لیکن ان کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے۔

نظرات بینندگان
captcha