ایکنا نیوز- روزنامہ انڈیپینڈنٹ کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک معاشی فورم سے خطاب کرتے ہوئےمحمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس طرف واپس جارہے ہیں جو ہم پہلے تھے، ایک ماڈریٹ اسلام جو تمام مذاہب اور دنیا کے لیے آزاد ہو'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اگلے 30 برس اپنی زندگیوں کو تباہ کن منصوبوں کے ساتھ نہیں گزاریں گے، ہم انھیں آج تباہ کردیں گے اور ہم انتہاپسندی کو جلد ختم کردیں گے'۔
خیال رہے کہ سعودی ولی عہد کا یہ بیان خلیجی ممالک کے بااثر مذہبی قدامت پرست ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے سب سےاہم اور براہ راست حملہ ہے۔
رواں سال 21 جون کو اچانک تعیناتی کے بعد محمد بن سلمان نے اپنے اصلاحاتی منصوبے کو آگے بڑھایا ہے۔
سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو گزشتہ ماہ ہٹا دیا گیا تھا جس کا سہرا انھیں دیا جارہا تھا کہ انھوں نے فرمان روا سلمان کو اس فیصلے پر مجبور کیا تھا۔
دوسری جانب شدت پسند مفتیوں کا گروپ اہم عہدوں پر فایز ہیں کیا کہ سعودی ولی عھد ان کے اثرات کو یوں آسانی سے ختم کرسکتا ہے یہ آنے والا وقت بتایے گا ۔