IQNA

19:46 - December 21, 2017
خبر کا کوڈ: 3503972
بین الاقوامی گروپ:اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی خصوصی تفتیش کار یانگھی لی نے کہا ہے کہ میانمار حکومت نے انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے مطابق میانمار میں نسل کشی جاری ہے اور لاکھوں روہنگیا مسلمان پناہ کے لیے ہجرت کر چکے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ ‘میانمار حکومت نے اپنے ملک میں رسائی دینے اور ہر قسم کے تعاون یا سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے’۔

 

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ‘وہ امید کرتے ہیں کہ میانمارحکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی’۔

 

اقوام متحدہ کے کمیشن نے بیان میں کہا کہ میانمار حکومت یانگھی لی کواپنے ملک میں کسی بھی طرح کی رسائی دینے اور تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہوگئی ہے۔

 

واضح رہے کہ خصوصی تفتیش کار کو اگلے ماہ میانمار کا دورہ کرنا تھا جہاں انہیں ریاست راکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے ریاستی ظلم وجبر اور بربریت کا جائزہ لیکر حقائق کا پتہ لگانا تھا۔

 

یانگھی لی نے کہا کہ ‘وہ میانمارحکومت کے فیصلے پر سخت افسردہ اور مایوس ہوئی ہیں اور اجازت نہ دینا اس جانب اشارہ ہے کہ میانمار کی ریاست راکھائن میں مسلمانوں کے ساتھ خوفناک صورتحال ہے’۔

 

انہوں نے کہا کہ ‘دو ہفتے قبل میانمار کے مستقل ترجمان نے انسانی حقوق کونسل کو اپنے بھر پور تعان کی یقین دہانی کرائی تھی’۔

 

اقوام متحدہ کے مطابق میانمار فوج کی بربریت سے 6 لاکھ 30 ہزار روہنگیا مسلمان جان بچا کر دیگر پڑوسی ملکوں کی جانب ہجرت کر گئے تھے اور وہ انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

 

بغیر سرحد کے ڈاکٹروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ 6 ہزار 7 سو روہنگیا مسلمان کو قتل کردیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے میانمار فوج کی جانب سے حملے کے بعد جلائے جانے والے گھروں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں 1000 جلے ہوئے گھروں کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن میانمار انتظامیہ نے گھروں کو جلائے جانے اور حملوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب روہنگیا لوگوں کے اپنے کارنامے ہیں۔

 

خیال رہے کہ میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، روہنگیا کے مسلمان کئی دہائیاں قبل ہجرت کرکے بنگلہ دیش سے میانمار پہنچے تھے، میانمار کے لوگ ان کو بنگالی تسلیم کرتے ہیں۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: