
ایکنا نیوز- خبررساں چینل الجزیره؛ کے مطابق مہاجرین کی شناخت اور انکی فہرست نویسی کا سلسلہ ھندوستان میں شروع کردیا گیا ہے۔
سوشل فعال ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فہرست نویسی سے ممکن ہے کہ آسام میں ہزاروں افراد کو غیر قانونی دیکر نکالا جائے جو ایک المیہ ثابت ہوسکتا ہے۔
آسام کے دور افتادہ گاوں میں رہنے والے پچیس سالہ حسین احمد مدنی نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ اس لسٹ میں میرا اور میرے خاندان کا نام نہ ڈالا جائے حالانکہ ہم ہندوستان کے باشندے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں کو ڈر ہے کہ انکو بنگلہ دیش کا مہاجر قرار دیکر یہاں سے نکالا جائے گا۔
سال ۱۹۴۷ سے آسام میں ھندو اور بنگالی مسلمانوں میں کشمکش اور فسادات کا سلسلہ جاری ہے۔
سال ۱۹۸۳کے فسادات میں دو ہزار بنگالی مسلمانوں کو یہاں قتل عام کیا گیا جبکہ اس کے بعد بھی ان جھگڑوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
آسام میں مسلمان چالیس فیصد آبادی پر مشتمل ہے مگر انکو ڈر ہے کہ انکو جاسوسی کے الزامات میں مہاجر قرار نہ دیا جائے۔
ھندوستان کا کہنا ہے کہ سرحدی حوالے سے بنگلہ دیش سے مذاکرات جاری ہے تاہم بنگلہ دیش نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ان دنوں بنگلہ دیش برمی مسلمانوں کی مہاجرت کے حوالے سے ایک عظیم انسانی بحران کا سامنا کررہا ہے/.