
ایکنا نیوز- جرمنی میں ایرانی ثقافتی مرکز کے ہفتہ نامہ نمبر ۳۵۷ کے مطابق فرایبرگ Freiburg) ( یونیورسٹی کے اعلی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کاموں کی یونیورسٹی میں قطعا ممانعت ہے
جرمنی میں نسل پرست گروپس جرمنی اور یورپ میں مسلمانوں کی آمد سے ناخوش ہیں اور انکو یہاں کی تشخص اور پہچان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں ۔
ایسے گروپس جرمنی میں «جرمن اپنے سے دور ہورہا ہے» مصنف «ٹیلو زاراٹسین» کی کتاب سے متاثر ہیں جو سال ۲۰۱۰، کو لکھی گیی ہے جسپر کافی اعتراضات بھی ہوچکے ہیں۔
ای میگزین فوڈر لکھتا ہے: «فرایبرگ» یونیورسٹی " کی کتابخانے میں ایسے بروشرز موجود ہیں جنمیں مسلمانوں کے حوالے سے نفرت انگیز مواد پیش کیا گیا ہے اور اسمیں لکھا ہے کہ «یکجا ہونا جھوٹ ہے».
یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان فرانٹس لایٹهولڈ کا کہنا تھا: یونیورسٹی میں کسی بھی اس طرح کے پروپیگنڈے کی اجازت نہیں دی جاسکتی/.