ایکنا نیوز- کراچی میں گذشتہ روز شیعہ بینکار امیر علی اور انکے معصوم بیٹے کی شہادت نے ایک بار پھر حکومتی رٹ سے سوالات اٹھادیے ہیں ، سوشل میڈیا پر پیمپر لگے معصوم علی رضا کی تصویر سے آنکھ اشکبار نظر آتے ہیں ، اس حوالے سے کسی صارف نے یہ درد بھر پیغام لکھا ہے ۔
تصویر دیکھی اور پھر ایک دم محسوس ہوا کہ آنسو گالوں سے بھی نیچے گر رہے ہیں
سچ میں اس تصویر نے جھنجھوڑا ہے
جو حالت قصور کی زینب کی تصویر دیکھ کر اور کہانی جان کر ہوئی تھی باخدا وہی حالت ابھی بھی ہے ، زینب کا نوحہ سامنے لایا تو سیکڑوں لوگوں نے شیئر کیا ، اور پھر ایک نہ ختم ہونے والا احتجاج شروع ہوا
اب جانے کیوں ، اس علی رضا کا مرثیہ پڑھنا چاہتا ہوں لیکن آنکھیں خشک نہیں ہو رہیں
یہ علی رضا کی تصویر ہے اس کا بابا امیر علی شہید ہو چکا ہے ، لیکن علی رضا کی تصویر نے مجھے اپنی نظروں میں مجرم بنا دیا ہے
کراچی میں ہونے والے اس ظلم کے بڑے مجرم وزیراعلیٰ سندھ ، ڈی جی رینجر سندھ اور آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ ہیں ، خدا قسم جناب قمر جاوید باجوہ یہ بچہ آپ سے سوال کر رہا ہے ، وزیراعظم پاکستان اگر شریف فیملی کی خدمت سے وقت مل جائے تو ان ننھے لاشوں کا نوحہ بھی سن لیں
جناب چیف جسٹس صاحب آپ تو خود کو بابا رحمتے کہتے ہیں کیا اس 2 سال کے بچے کے جسم میں لگی 3 گولیاں آپ کے عدل کے ایوانوں کو جھنجھوڑ نہیں رہیں
کہیں ایسے بھی ہوا کہ ایک پیپمر والے بچے سے اتنا خوف محسوس ہوا کہ تین تین گولیاں ماری گئیں
شام ، یمن ،افغانستان ، فلسطین اور عراق کیلئے خون کے آنسو رونے والے اس ظلم کو کیا نام دیں گے
خدا قسم یوں لگ رہا ہے جیسے یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ، جانے کیوں دل کر رہا ہے کہ اسے اٹھا کر سینے سے لگا لوں اور دھاڑیں مار کر کہوں علی رضا میں تمہارا مجرم ہوں
مجھے رات کو نیند نہیں آئے گی ، شام کا کھانا نہیں کھا پایا ، دل اور دماغ میں ٹیسیں اٹھ رہی ہیں
یار ایسا ظلم بھلا کہاں ہوتا ہے
اس بیڈ پر گرے خون کے قطرے مجھے ریاست کے جسم سے گرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں