ایکنا نیوز-سید راشد عباس رضوی ایڈووکیٹ پاسبان عزا پاکستان کے صدر ہیں۔ یہ تنظیم کراچی کی سطح پہ عزاداری کے اجتماعات کے انعقاد کے سلسلے میں خدمات سرانجام دیتی ہے۔
اسلام ٹائمزسے گفتگو میں تکفیری گروہوں کی انتخابات میں شرکت کے حوالے سے انکا کہنا تھا :تکفیر ازم ایک سوچ ہے، ایک نظریہ ہے، جس میں اپنے سوا دوسروں پہ کفر کے فتوے عائد کرکے انہیں دائرہ اسلام سے جبری طور پر خارج قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کفر کے فتوے شیعہ کے خلاف بھی ہیں اور سنیوں کے خلاف بھی۔ میں اس سوچ و نظریئے کا مخالف ہوں۔ پاکستان کی بیشتر آبادی اس نظریئے کی مخالف ہے۔ دین اسلام میں جبر نہیں ہے۔ ہر انسان کو آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق حاصل ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جبر، بندوق یا قتل و غارت گری کے ذریعے اپنا عقیدہ دوسروں پہ مسلط کرے، مکالمہ ہوسکتا ہے۔ تکفیر شدت پسندی ہے، مذہبی انتہاء پسندی ہے، یہ نہ صرف عالم اسلام بلکہ پاکستان کیلئے بھی زہر قاتل ہے۔ مذہبی جنونیت ہی تکفیر کا روپ دھارتی ہے۔ تکفیریت کسی بھی فرقہ، مسلک، قوم یا زبان سے منسلک نہیں بلکہ کسی بھی فرقہ، مسلک میں ہوسکتی ہے۔ موجودہ وقت میں اگر تکفیری نمائندہ گروہوں کا ذکر کروں تو وہ لشکر جھنگوی ہے، سپاہ صحابہ ہے۔ اگر منظر عام پہ آنے والے نئے چہروں کو دیکھیں تو تحریک لبیک یارسول اللہ کا خادم حسین رضوی ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کے عقیدے کو غلط نہیں کہہ رہا، ان کی اس سوچ کو غلط کہہ رہا ہوں۔ اگر سپاہ صحابہ کا عقیدہ دیوبندی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیوبندی عقیدہ ہی تکفیریت ہے یا وہ غلط ہے، ایسا نہیں ہے۔ اس فرقہ میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں، بہت نمایاں لوگ بھی ہیں۔ اسی طرح اہلسنت میں بھی بیشتر افراد کا عقیدہ اور سوچ بہترین ہے۔ بنیادی طور پہ ان دونوں عقیدوں میں مسئلہ نہیں ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ان مسالک میں کوئی بھی ایسا گروہ اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا خود ساختہ ایک ایسا نظریہ پیش کرکے دوسروں کی تکفیر و تحریف شروع کر دیتا ہے۔ وہ عقیدے کا پردہ اوڑھ کر اپنا ہی ایجنڈا مسلط کرتے ہیں۔ لوگوں کو اکساتے ہیں، دوسروں پہ کفر کے فتوے عائد کرکے قتل و غارت گری، بدامنی، شدت پسندی کے ذریعے پورے معاشرے کا امن و سکون تہہ بالا کرتے ہیں۔ یہی سوچ، یہی لوگ اسلام اور پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث ہیں اور اسی سے عالم اسلام کا اتحاد، اتحاد بین المسلمین کو بھی ناقابل
مسنگ پرسنز کے معاملے میں نیچے سے اوپر تک سب لوگ ڈرتے ہیں۔ حکومتیں بھی ڈرتی ہیں۔ اس حساس مسئلے پہ کسی سیاسی جماعت نے بات نہیں کی، یہ سیاسی جماعتیں بھی لاپتہ افراد کے بارے میں بات کرکے خود کو خراب نہیں کرنا چاہتیں۔ یہ بھی فری ہینڈ چاہتی ہیں اور ان اداروں سے تعلقات میں بگاڑ نہیں چاہتیں۔
تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ تکفیری گروہوں کے زیر اہتمام کفر ریلیوں، جلسوں، جلوسوں میں کفر کے نعرے لگائے گئے، جس سے وحدت کو شدید نقصان پہنچا۔ فرقہ واریت کی آگ بھڑکی۔ اس کے خلاف جب آواز اٹھی تو کئی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔
انکا کہنا تھا: نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان گروہوں کی سرگرمیوں پہ پابندی عائد کی گئی اور اسی پلان میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ان تکفیری کالعدم گروہوں کو نام بدل کر بھی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم ہو یہ رہا ہے کہ سپاہ صحابہ سے نام بدل کر اہلسنت والجماعت اور اس کے بعد راہ حق پارٹی کے نام سے سرگرم ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کس قانون کے تحت انہیں یہ اجازت حاصل ہے۔؟ جب قانون بنایا جائے اور اس پہ عملدرآمد نہ ہو تو پھر ملک میں امن کیسے قائم ہوگا۔ چنانچہ اسی قانون عملدرآمد کی درخواست کے ساتھ ہم کورٹ میں گئے کہ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پہ پابندی عائد کی جائے اور انہیں حالیہ انتخابات میں شرکت سے روکا جائے۔ ہم نے چھ پوانٹس پہ بات کی تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ جو لوگ فورتھ شیڈول میں شامل ہیں اور انہیں عوامی اجتماعات میں جانے کی اجازت نہیں تو وہ کیسے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان میں جب کالعدم جماعتیں نام بدل کر کام نہ کرنے کی پابند ہیں تو یہ گروہ نام بدل کر کیسے کام کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق بیان حلفی کاغذات نامزدگی کا لازمی حصہ ہے۔ ہم نے بیان حلفی میں سے دو پوانٹس پہ بات کی۔ بیان حلفی میں جھوٹ لکھنے سے امیدوار امین و صادق نہیں رہتا اور نااہل قرار پاتا ہے۔ اس بیان حلفی میں اورنگزیب فاروقی کو پوائنٹ آوٹ کیا۔ سب کو پتہ ہے کہ مشہور زمانہ دہشتگرد ہے، شیڈول فور میں شامل ہے۔ اس کے بیان حلفی میں ایک کالم ہے، جس میں تین سال کے کیسز کی تفصیل دینا ہوتی ہے۔ اورنگزیب فاروقی نے اپنے بیان حلفی میں لکھا کہ تین سال میں اس پہ کوئی کیس نہیں ہے۔ جج صاحب کو ہم نے شہید خرم ذکی کی ایف آئی آر بھی دکھائی اور بیان حلفی بھی ان کے سامنے رکھا کہ یہ کیس ہے، جس میں یہ دہشتگرد نامزد ہے اور یہ بیان حلفی ہے اس کا، جس میں اس نے جھوٹ بولا ہے۔ اس کے علاوہ بیان حلفی میں گذشتہ تین سالوں کے بیرونی ممالک کا سفر بھی ظاہر کرنا پڑتا ہے۔ اورنگزیب فاروقی نے اس میں جھوٹ بولا ہوا تھا۔
ہم نے ثبوت بھی پیش کئے کہ دو سال پہلے یہ سعودی عرب گئے تھے۔ عمرے پہ جانا سعادت ہے لیکن اس کو چھپانا درست نہیں۔ ہم نے عمرے پہ نہیں بلکہ اس سفر کو چھپانے پہ اعتراض کیا۔ اس کو چھپانے کا مقصد بنیادی طور پر وہ اثاثے اور وہ ذرائع آمدن چھپانا ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے یہ سفر کیا گیا۔ ہم نے اس کے بھی ثبوت پیش کئے۔ یہ بڑا ہائی پروفائل کیس تھا، تمام لوگ موجود تھے۔ تمام دلیلوں کے باوجود جج صاحب نے کوئی کمنٹس دیئے بغیر فقط اتنا ہی کہا کہ دلیل کمزور ہے، لہذا میں پٹیشن خارج کرتا ہوں۔ اب ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپیل میں جائیں۔ یہ ایک ناسمجھ میں آنے والا فیصلہ ہے، کیونکہ بیان حلفی سپریم کورٹ کے حکم پہ رکھا گیا ہے اور اگر بیان حلفی ہی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر بیان حلفی کی وقعت ہی ختم ہوگئی۔ ہمیں یہ سمجھ آئی کہ مولانا لدھیانوی کو جھنگ سے کلیئر کر دیا گیا، انہیں فورتھ شیدول سے نکال دیا گیا۔ مسرور جھنگوی کو کلین چٹ دی گئی۔ معاویہ اعظم کو بھی کلیئر کر دیا گیا، اورنگزیب فاروقی کو کلیئر کیا گیا، یہ سب لوگ شیڈول فور میں شامل دہشتگرد ہیں۔ ہمیں سمجھ یہی آتی
جج صاحب کو ہم نے شہید خرم ذکی کی ایف آئی آر بھی دیکھائی اور بیان حلفی بھی ان کے سامنے رکھا کہ یہ کیس ہے، جس میں یہ دہشتگرد نامزد ہے اور یہ بیان حلفی ہے اس کا، جس میں اس نے جھوٹ بولا ہے۔
ہے کہ پشاور سے کراچی تک ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ کام ہو رہا ہے اور دہشتگردوں کو کلیئر کرکے انہیں انتخابات میں اتارا جا رہا ہے۔
سید راشد رضوی نے مزید کہا: جب تک کالعدم جماعتوں پہ حقیقی پابندی نہیں ہوگی، اس وقت تک ملک میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ آپ اپنے کاغذوں میں، فہرستوں میں ان پہ پابندی عائد کریں۔ کالعدم جماعتوں کے سرغنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کرلیں، لیکن جب تک اس کا حقیقی معنوں میں اطلاق نہیں ہوتا تو اس وقت یہ سب بے فائدہ و بے سود ہے۔ اگر الیکشن کمیشن انہی کالعدم جماعتوں کو، پابندی زدہ لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیتا ہے تو پھر یہ سب ڈھونگ، دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ دہشتگردی کا اس وقت تک خاتمہ قطعاً ممکن نہیں کہ جب تک دہشتگردوں کے ساتھ نرمی برت کر یا نظریہ ضرورت کے تحت انہیں سپیس دی جائے تو اس وقت تک بدامنی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ پاکستان میں جتنی بھی کالعدم جماعتیں کام کر رہی ہیں، ان سب کے بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ چاہے وہ داعش ہو، القاعدہ ہو یا کوئی اور۔ انہی کی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان کا عام شہری خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے اور یہاں تک کہ پاکستان بھی غیر محفوظ تصور ہوتا ہے، کیونکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک ان دہشتگرد تنظیموں کے اوپر حقیقی پابندی نہیں لگائی جاتی اور ان کی کمک و سہولیات کی تمام راہیں مسدود نہیں کی جاتیں۔