
ایکنا نیوز- جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف واقعات عام ہوچکے ہیں اوررپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۷، میں ۱۰۷۵ مسلم مخالف جرایم کے واقعات درج ہوچکے ہیں اور انہیں واقعات کے خلاف یوٹیوب پر اتحاد قایم کیا گیا ہے۔
ایرانی مرکزنے «دویچلند فونک» کے حوالے سے کہا ہے: محترمہ«فرح بوامار» جو اس اتحاد کی تشکیل کے حوالے سے پیش پیش ہے انکا کہنا ہے کہ میٹرو اسٹیشنز پر ایسے واقعات ہوتے ہیں اور چند روز قبل میرے سر پر اسکارف کی وجہ سے ایک شخص نے کولڈ ڈرنک انڈیل کر میری توہین کی۔
بوامار کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہزاروں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں سے ایک ہے اور معاشرے کی رنگارنگی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
فیلم اپ لوڈ
بوامار اپنے دوستوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسلامی ہراسی کے حوالے سے حقایق پرمبنی واقعات اجاگر کرنے کی ڈکومنٹری اور کلیپس اپ لوڈ کرکے ان واقعات میں کمی کا ارادہ رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کے سروں سے اسکارف چھیننے اور مساجد کی توہین کے واقعات اسلامی ہراسی کے نمونے ہیں اور جرمنی میں یہ معمول بنتے جارہے ہیں۔
جرمنی میں مسلم خواتین امور کے وکیل اور برلن ٹی وی کے اسٹاف «اوا آندرادس» کا کہنا ہے کہ اسلام ہراسی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اجتماعی طور پر کوشش کی ضرورت ہے ورنہ اس سے ہمارے معاشرے میں خطرناک مسایل پیدا ہوسکتے ہیں ۔
آنداردس کا کہنا تھا:« چادر چھیننا بدترین واقعہ ہے.» معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے سوشل میڈیا پر کاوش ضروری ہے اور لوگوں کو مسایل سے آگاہ کرنا وحدت و ہم آہنگی کے لیے اہم ہے۔/