IQNA

13:13 - August 02, 2018
خبر کا کوڈ: 3504911
بین الاقوامی گروپ: ڈنمارک میں خواتین کے نقاب پہنے پر لگائی گئی متنازع پابندی کا باضابطہ طور پر اطلاق ہوگیا، جس کے بعد بڑی تعداد میں خواتین سے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے پابندی ہٹانے اور جرمانہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا

ایکنا نیوز- اے ایف پی کے مطابق انسانی حقوق کے رضاکاروں نے نقاب پر پابندی کو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ اس کی حمایت کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس سے مسلمان تارکین وطن کو ڈینش معاشرے میں گھلنے ملنے کا زیادہ موقع ملے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ڈینمارک کے دارالحکومت کوہن ہیگن میں مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نےشرکت کی، اور متعدد افراد نے علامتی طور پر نقاب پہن کر اس میں احتجاج ریکارڈ کروایا۔

کوپن ہیگن پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں شامل افراد پر نقاب پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نئی قانون سازی کے مطابق ڈینمارک میں عوامی مقامات پر برقع پہننا، جس میں کسی خاتون کا چہریہ مکمل طور پر چھپ جائے، یا نقاب جس میں صرف آنکھیں نظر آئیں پہننے کی صورت میں ایک سو 56 ڈالر یا ایک سو 34 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس پابندی میں چہرہ چھپانے والی دیگر چیزوں کو ممنوع قرار دیا گیا، ان میں اونی کنٹوپ نقلی داڑھی جس سے منہ چھپ جائے بھی شامل ہے، اسکے ساتھ مذکورہ پابندی کی مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار ڈالر سے زائد کا جرمانہ لگادیا جائے گا۔

اس ضمن میں سارا نامی 30 سالہ مسلمان خاتون کا کہنا تھا کہ ’ان کا سسٹم سے اعتماد ہی اٹھ چکا ہے‘، انہوں نے بتایا کہ وہ ترکی سے ہجرت کرنے والے والدین کے ہاں ڈینمارک میں ہی پیدا ہوئیں اور 18 سال کی عمر سے نقاب کررہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے احساس ہوگیا کہ جمہوریت قابل عمل نہیں، سیاستدان جب مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور متنازع خاکے بناتے ہیں تو آزادی اور حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن جب بات مسلمانوں کی آتی ہے تو وہ لباس کےا نتخاب کا حق بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا اس پابندی کے نتیجے میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے گھلنے ملنے کے بجائے مخالفانہ جذبات میں اضافہ ہوگا۔

واضح رہے کہ چہرے کے نقاب کا معاملہ پورے یورپ میں ہی خاصہ متنازع رہا ہے، گزشتہ برس ایک یورپی عدالت نے بیلجیئم میں عائد کردہ نقاب کی پابندی کو برقرار رکھا تھا۔

فرانس وہ پہلا یورپی ملک تھا جس نے 2011 میں عوامی مقامات پر چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ جرمنی میں چہرہ چھپانے پر جزوی پابندی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: