ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی کمیٹی کی رپورٹ میں اس تعصب کو ’خطرناک' قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ’اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے افراد طویل عرصے سے ان کیمپوں میں قید کا شکار ہیں یا کتنے افراد کو سیاسی تعلیمی سینٹر میں مختلف وقت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے، حالانکہ ان سے مسلم عقیدے کا کوئی خطرناک تاثر نہیں ملتا۔‘
یہ رپورٹ رواں ماہ جنیوا میں ہونے والی سماعت کے بعد مرتب کی گئی ہے، جس کی تیاری کے لیے کمیٹی نے تقریباً 50 چینی حکام سے سوالات بھی پوچھے تھے۔
گزشتہ روز فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیون نے کہا تھا کہ امریکی قانون سازوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اصرار کیا ہے کہ وہ سنکیانگ صوبے میں مسلم اقلیتوں کو قید کرنے والے چینی حکام پر پابندی عائد کریں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس اراکین نے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور سیکریٹری خزانہ اسٹیو نیوچن کو لکھے گئے خط میں 7 چینی حکام اور 2 نگرانی کے سامان کے مینوفیکچررز کے خلاف پابندی عائد کرنے کا کہا ہے۔
دوسری جانب چین نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔
چین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یوغور مسلمانوں سے متعلق یہ رپورٹ انسداد دہشت گردی کے تناظر میں بنائی گئی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’یہ رپورٹ بے بنیاد اطلاعات پر مبنی ہے جن کی نہ تو کوئی تصدیق کی گئی اور نہ ہی حقائق کو جانچا گیا۔'
انہوں نے کہا کہ چین، ملک کے مغربی حصے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ہم نے حفاظتی اقدامات کیے ہیں، اسی طرح دنیا بھر کے اکثر ممالک کرتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ چینی حکام ثبوتوں اور ٹھوس دستاویزات کی موجودگی کے باوجود ماورائے عدالت جنگی کیمپوں کی موجودگی کی رپورٹس کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
چین نے امریکا کی جانب سے حکام پر پابندی عائد کیے جانے کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا ہے۔
چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری 'یوغور آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔
سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔
کئی ماہ سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ یوغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے۔