عراق؛ ۱۰۰۰ ایزدی خواتین اب بھی داعش کی قید میں ہیں

IQNA

عراق؛ ۱۰۰۰ ایزدی خواتین اب بھی داعش کی قید میں ہیں

8:54 - October 07, 2018
خبر کا کوڈ: 3505186
بین الاقوامی گروپ ـ ایزدی کونسل کے سربراہ آروان اورتاک کے مطابق اب بھی ہزار خواتین داعش کے پاس موجود ہیں

ایکنا نیوز- خبررساں ادارے القدس العربی کے مطابق عراق میں ایزدی رہنما آروان اورتاک کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو جنسی مقاصد کے لیے غلام کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔

 

انہوں نے ایزدی خاتون نادیه مراد  کو  نوبل پرایز سال ۲۰۱۸ کے حوالے سے کہا: نادیه کو درست طور پر انعام دیا جارہا ہے کیونکہ داعش کے ہاتھوں ایزدی خواتین پر مظالم کے حوالے سے انہوں نے چار سال تک کام کیا ہے۔

 

نادیه مراد زن ایزدی خاتون کو سال ۲۰۱۴ میں داعش نے قید کی اور بد ترین انداز میں جنس تشدد کا نشانہ بنایا تاہم تین مہینے کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ۔

 

نادیہ اب اب جرمنی میں رہتی ہے اور وہ عالمی عدالت انصاف میں مسلسل ایزدی خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور اسی بناء پر انہیں نوبل ۲۰۱۸ کے لیے منتخب کی گیی ۔

 

قابل ذکر ہے کہ امن کے لیے نوبل پرایز سال ۲۰۱۸ کے لییے کانگو کی اسپشلسٹ ڈاکٹر خاتون اور پچیس سالہ ایزدی خاتون کا چناو کیا گیا جو داعش کے ہاتھوں ظلم کا شکار بنی ہے۔

 

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوٹریس نے ان دونوں خاتون کو نوبل پرایز پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ویلیوز کے دفاع کے لیے انکی کاوشیں قابل قدر ہیں۔/

3753057

نظرات بینندگان
captcha