ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق خاشقجی قتل کیس نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر دفترکو بھی فعال ہونے پر مجبور کردیا ہے، یو این اہلکار کا کہنا ہے کہ واقعے پر بادشاہ یا ولی عہد کے لاعلمی ظاہر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی ریاست قتل کی ذمہ دار نہیں۔
اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے تسلیم کیا ہے کہ یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ قتل سعودی ریاست کے نام پر ہوا ہے یا نہیں، تاہم مخالف شواہد آنے تک واضح یہی ہے کہ یہ ماورائے عدالت قتل ہے۔
واضح رہے کہ خاشقجی کا بیٹا اپنے اہل خانہ کے ساتھ سعودی عرب سے امریکا چلا گیا ہے۔
شاہ سلمان نے روس کے صدر پوٹن اور فرانس کے صدر میکرون کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کرائی جائے گی۔ تاہم سعودی عرب میں برطانیہ کے سابق دفاعی اتاشی کرنل برائن لیز کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے بطور ولی عہد کے دن گنے جاچکے اور ان کے والد بادشاہ سلمان ممکن ہے انہیں تبدیل کردیں۔
ادھر امریکی اخبار کے مطابق سعودی عرب نے قتل پر اپنا موقف 5بار تبدیل کیا ہے۔