ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق اپنے مختصر خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ایک چھوٹے سے طبقے نے اپنا رد عمل دیا اور ججز کو قتل کرنے اور فوج اور ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے شہریوں کو اکسانے کی کوشش کی۔
پاکستان کا قانون قرآن اور سنت کے منافی نہیں ہے، ججز نے آسیہ بی بی سے متعلق جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے اور پاکستان کا آئین قرآن اور سنت کے ماتحت ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا اور اس کا مطلب ہے کہ عدالت نے آئین کے مطابق فیصلہ دیا اور آئین قرآن اور سنت کے مطابق ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد فلاحی ریاست ہے، اگر ہم اسے فلاحی ریاست نہیں بنائیں گے تو اس کے قیام کا مقصد فوت ہوجائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’میں بار بار یہ کہہ چکا ہوں کہ پاکستان انشا اللہ ایک عظیم ملک بنے گااور مدینہ کی ریاست کے جو اصول تھے اس کے مطابق چل کر بنے گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر مشروط محبت نہ کرے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر ججز کو قتل اور فوج سے بغاوت پر اکسا رہے ہیں، 'میں ایسے عناصر سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے ریاست سے نہ ٹکرائیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ کسی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طبقہ عوام کے جذبات بھڑکا کر امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے، آمد و رفت کے امور متاثر کیے جارے ہیں، جو ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کون سی حکومت چل سکتی ہے جہاں ایک آدمی کھڑا ہو کر ججز کو قتل اور آرمی چیف کے خلاف لوگوں کو بغاوت پر اکسائے اور عوام کو سڑکوں پر لا کر راستوں کو بند کردے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے عملی طور پر وہ کام کیے جو سابقہ حکومت نے نہیں کیے، جب ہالینڈ میں پارلیمنٹیرین ین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو واحد پاکستان تھا جس نے ہالینڈ کے وزیر خارجہ اور سفیر سے شکایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ہم نے ہالینڈ کے پارلیمنٹیرین سے وہ خاکے دستبردار کرائے، اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی جبکہ پاکستان نے پہلی مرتبہ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر جاکر توہین رسالت کے مسئلے پر بات کی۔
وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ ہمارے وزیر خارجہ نے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں توہین رسالت اور مذہب کا معاملہ اٹھایا اور اس کے نتیجے میں یورپی کورٹ آف ہیومن رائٹس نے فیصلہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا آزادی اظہار رائے میں نہیں آتا۔
ان کا کہنا کہ ہم نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ کیا کہ ہم واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی مشکل معاشی بحران سے نکل رہے ہیں، ہماری کابینہ نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی اور دن و رات جدوجہد کررہے ہیں کہ قوم کو معاشی اور سماجی مشکلات سے نکالیں تاکہ نچلی سطح کا مزدور بہتر حالات میں روزگار حاصل کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کے دوست اور برادر ممالک سے پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بیروزگاری ختم اور غربت کم ہو۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے8 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس کا سامنا کرنے والی آسیہ بی بی کی رہائی کے حکم کے بعد کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے اپنے کارکنان کو جمع ہونے کی کال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کو رہا کیا جائے تو اس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد مذہبی جماعت کے کارکنان اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر جمع ہونا شروع ہوگئے اور وہاں روڈ کو بلاک کردیا، علاوہ ازیں اسلام آباد میں آبپارہ کے علاقے کو بھی بند کروادیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ اہلِ سنت والجماعت نے بھی آبپارہ کے علاقے میں احتجاج شروع کردیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بعد ازاں مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے پیشِ نظر سندھ اور پنجاب میں آئندہ 10 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق 10 روز کے لیے ڈبل سواری اور عوامی اجتماعات منعقد کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
اس کے ساتھ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد جلسے و جلوس، ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے اجتماع پر بھی 10 روز کے لیے پابندی ہوگی۔