
ایکنا نیوز- «اناطولیہ» نیوز کے مطابق انڈونیشیاء کی جانب سے اویغور مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے وضاحت طلب کرنے پر چینی حکومت نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی زبان سے عدم آشنائی، دہشت گردی کی جانب مایل ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔
چینی حکام کے مطابق اویغور مسلمانوں کو زبان سیکھانے اور تربیت کے لیے ان مراکز میں جبرا منتقل کیا جاتا ہے تاکہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹا جاسکے۔
قابل ذکر ہے کہ جکارتہ میں چینی سفیر کو طلب کرکے انڈونیشیاء نے مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے تحفظات کا اظھار کیا تھا۔
انڈونیشیاء میں مذہبی امور کے سربراہ لقمان حکیم صیفالدین نے بھی سینکیانگ میں مسلمانوں پر پابندیوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظھار کیا ہے۔
عالمی رد عمل
جینیوا میں اگست کو منعقد ہونے والی انسانی حقوق کانفرنس میں متعدد تنظیموں نے چینی مسلمانوں پر پابندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ سیاسی بہانوں کے ساتھ تین ملین سے زاید مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے۔
انسانی حقوق واچ تنظیم حکومتی ایماء پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں پر متعدد بار تحفظات کا اظھار کرکے سلسلہ روکنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔