IQNA

9:02 - March 27, 2019
خبر کا کوڈ: 3505913
بین الاقوامی گروپ- حزب اللہ رہنما نے کہا کہ فلسطین، شام اور لبنان کے پاس مقابلے کے سوا کوئی راستہ نہیں جس سے اپنے مقبوضہ علاقے واپس کرسکیں۔

ایکنا نیوز- المنار نیوز کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے ایک اجتماع میں خطاب سے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مایک پومپئو کے دورے لبنان کا مقصد ملک میں افراتفری اور فساد پیدا کرانا تھا۔

 

انکا کہنا تھا: جب ٹرمپ قدس شریف کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیتا ہے تو لوگوں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا اور اس طرح توقع رکھنی چاہیے کہ ٹرمپ مکمل مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔

 

حزب اللہ رہنما نے کہا کہ جولان ہایٹس پر  اسرائیل کے قبضے کو قبول کرنا اسلامی اور عربی ممالک کی توہین کے مترادف ہے۔

 

حسن نصرالله نے پمپئو کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: حزب‌الله کیسے ملک میں بدامنی چاہتی ہے حالانکہ فساد تو تم اور تمھار سربراہ پیدا کررہے ہو اور سال ۱۹۴۸ سے بدامنی پیدا کرنے والا اسرائیل ہے جو امریکی حمایت سے سب کررہا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ شامی پناہ گزینوں کی واپسی میں بھی اسرائیل رکاوٹ ڈال رہا ہے اور اسکی پشت پناہی امریکہ سرانجام دے رہا ہے۔

 

حزب‌الله لبنان رہنما نے کہا کہ ایران اور حزب‌الله سے امریکہ اس وجہ سے ناراض ہے اور دشمنی کررہا ہے کہ وہ سنچری ڈیل میں مانع ہیں۔

حسن نصرالله نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا کہ امریکہ کے لیے صرف انکے مفادات اور اسرائیل اہم ہے اور لبنان کی خوشحالی سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ ہم نے شام میں انکے لیے اور لبنان کے لیے جنگ لڑی اور سب کو معلوم ہے کہ اگر داعش لبنان پہنچ جاتی تو ہماری حالت کیا ہوتی ۔/

3799895

 

نام:
ایمیل:
* رایے: