ایکنا نیوز- کاروان بھٹو کے دوران ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کاروان بھٹو کوئی ٹرین مارچ نہیں، سکھر کی فضائی حدود بند ہے، تو میرے پاس وہاں جانے کے لیے بذریعہ سڑک جانا تھا یا پھر ٹرین کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں ہم پہنچے وہاں عوام نے ہمارا استقبال کیا لیکن یہ پیپلز پارٹی کی تحریکیں چلانے کا عمل نہیں، جب ہم لانگ مارچ کا اعلان کریں گے تو حکومت کو پتہ چلے گا کہ احتجاج کیا ہوتا ہے، کاروان بھٹو تو صرف ٹرین کے ذریعے میرا لاڑکانہ تک کا سفر ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پر جواب دیتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہم ہر سال 4 اپریل کو گڑھی خدا بخش جاتے ہیں اور اس سال بھی مجھے وہاں پہنچنا تھا لیکن فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے یہ راستہ اختیار کیا لیکن یہ کوئی لانگ مارچ نہیں، حکومت زیادہ پریشان ہے، وزیر اعظم ہاؤس اور دوسری جگہوں سے چیخیں آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت 6 ووٹوں کی ہے اور ایسی حکومت ہمیشہ غیر محفوظ ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر انصاف ہوگا تو سب باعزت بری ہوں گے لیکن بدقسمتی سے یہ کیسز قانون کے مطابق نہیں چل رہا اور اس پر ہمیں اعتراض ہے، ہمیں احتساب سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن سیاسی انتقام اور پولیٹیکل انجینئرنگ پر اعتراض ہے۔
بھارتی بیانیے سے متعلق لگائے گئے الزام پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کالعدم تنظیموں اور دہشت گردی پر آواز اٹھاتا رہا ہوں، یہ وہی قوتیں ہیں جنہوں نے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا ہے، کسی ملک میں ایسے گروپ کو برداشت نہیں کیا جاتا، اس قسم کے گروپ بینظیر بھٹو کی شہادت میں بھی ملوث تھے، لہٰذا یہ پاکستان کا بیانیہ ہے اور ملک کا مستقبل اسی میں ہے کہ ہم انتہا پسندی کا مقابلہ کریں اور امن قائم کریں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو بھی ملک دشمن قرار دیا، جب کوئی کٹھ پتلی یا غیر جمہوری قوت مجھے ملک دشمن قرار دیتی ہے تو یہ میرے لیے فخر کی بات ہے، میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس نے اس ملک کے لیے جانیں دیں، ہم پاکستان اور اس کے مفاد کے لیے لڑتے رہیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم بزدل وزیر اعظم کی طرح دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور مودی کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے، ہم لڑتے رہیں گے، اگر کابینہ میں ایسے وفاقی وزیر ہوں جن کے کالعدم تنظیموں سے تعلق ہوں تو یہ شرمناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ان معاملات کو اٹھائے اور انہیں حل کریں اور میں شروع دن سے یہی بات کہتا آرہا ہوں اور آگے بھی کہتا رہوں گا۔