
ایکنا نیوز- خبررساں ویب سائٹ lualuatv.com»؛ کے مطابق آیتالله عیسی قاسم نے سینچری ڈیل پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ٹرمپ-اسرائیلی سازش قرار دیا اور کہا کہ معاملے میں اصل کردار اور سرزمین کے مالک فلسطینوں اس معاہدے میں کہاں کھڑے ہیں؟
آیتالله عیسی قاسم نے اس سازش کو مسترد کرتے ہوئے کہا: امت اس سازش کا مقابلہ کرے گی اور اس ذلت آمیز سازش کو کسی طرح قبول نہیں کی جاسکتی۔
انکا کہنا تھا کہ فرزندان اسلام بیداری اور اتحاد سے اس سازش کو شکست سے دوچار کرکے رہیں گے جیسے کہ اب تک ان سازشوں کو مقابلہ کیا ہے۔
آیت اللہ عیسی قاسم نے کہا کہ جس معاملے میں امت فلسطین اور فسطینی سرزمین کے اصل وارث کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہو کو ن اس کو قبول کرسکتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ معاملے میں بعض عرب ممالک کی سازش جو اپنے ہی اسلامی اور قومی بھائیوں کے خون اور قربانیون کو فروخت کرنا چاہتے ہیں کسی طور کسی کو قبول نہیں۔
آیت اللہ عیسی قاسم کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں صرف ذلت اور ننگ موجود ہے اور امت مسلمہ وحدت و بیداری سے سینچری ڈیل کو ناکام بنا دے گی۔
قابل ذکر ہے کہ منامہ کانفرنس میں امریکی ایماء پر بعض معمولی اقتصادی تجاویز پر سینچری ڈیل پر معاملے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس سے پہلے ٹرمپ کے داماد «جیرڈ کوشنر» نے کہا تھا کہ رمضان کے بعد سینچری ڈیل کو آگے بڑھانے پر کام شروع کیا جائے گا۔