
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک میں مختلف مذاہب اور رنگ و نسل کے لوگ اکھٹے رہتے ہیں۔
ھندو اکثریتی والے ملک میں ہندو و بودھ مذہب کے ماننے والے کی تعداد اسّی فیصد سے زاید بتائی جاتی ہے جبکہ تیرہ فیصد سے زاید مسلمان بھی آبادی کا اہم حصہ ہے۔
بمبئی جیسے بڑے شہروں میں مختلف اسلامی ایام خاص انداز میں منائے جاتے ہیں جیسے رمضان المبارک وغیرہ۔
فوڈ مارکیٹ یا سستے بازار
بمبئی مین رمضان سے قبل ہی مساجد اور محلوں کی صفائی کا کام شروع ہوتا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں فوڑ مارکیٹ یا سستے بازار بھی لگائے جاتے ہیں جنمیں بمبئی مسجد کے قریب سستا بازار معروف ہے۔

ہوٹلوں کی چھٹی
رمضان کے موقع پر اکثر ہوٹلیں اور فوڈ شاپس بند کیے جاتے ہیں جبکہ رمضان میں مغرب کے وقت پٹاخوں کی آواز سے لوگ مغرب کا اندازہ کرلیتے ہیں۔ مساجد میں اس مہینے کو قرآنی محافل کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔
بمبئی میں مسجد ایرانیاں کی رونق
بمبئی کی ایرانیاں مسجد کو شیعہ مکتب کا سمبل یا علامت تصور کیا جاتا ہے جہاں ان ایام میں افطاری، شب ہائے قدر اور
امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی شہادت پر مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔
خانه فرهنگ ایران بمبئی کے مطابق بہت سی مساجد میں نماز تراویح بھی منعقد کی جاتی ہیں جبکہ شب قدر اور اعتکاف کی محفلیں دیگر پروگراموں میں شامل ہیں۔

قونصلیٹ ایران کی افطار پارٹی
ہر رمضان کو ایرانی قونصلیٹ کی جانب سے افطار پارٹی دی جاتی ہے جسمیں دیگر ممالک کے سفارت کار، علماء ، دانشور اور مختلف طبقوں کے نمایندوں کے علاوہ اعلی سرکاری حکام بھی شریک ہوتے ہیں۔

سفر عمره و نجف
اس مہینے میں بہت سے لوگ عمرہ کے لیے سفر کرتے ہیں اور ایک سیاحتی کمپنی کے مطابق رمضان میں دس ہزار سے زاید لوگ ہندوستان سے عمرہ کے لیے سفر کرتے ہیں۔

اہل تشیع کے کافی لوگ اس مہینے میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی زیارت کے لیے عراق کا رخ کرتے ہیں اور وہاں دس دن تک قیام کے ساتھ روزہ بھی رکھتے ہیں۔
بمبئی میں سحری کے وقت کیچڑی، قیمہ، ابلے انڈے عام طور پر تیار اور کھائے جاتے ہیں۔
افطاری کا پلیٹ
افطاری کے لیے بڑے پلیٹ میں مختلف قسم کے میوے اور کجھور رکھے جاتے ہیں جبکہ پکوڑہ، بریانی، حلیم پسندیدہ خوراکوں میں شامل ہے۔

یوم قدس
بمبئی میں ہر سال قدس ڈے اور جمعةالوداع کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ پیروان ہل بیت نماز کے بعد قدس ڈے کے حوالے سے مظاہرے کرتے ہیں ۔ بمبئی میں «خوجه مسجد» سے «نور باغ» تک ریلی نکالی جاتی ہے جسمیں صھیونی مظالم کی مذمت اور فلسطینیوں کی حمایت میں نعرے لگائے جاتے ہیں۔

عید فطر کی خریداری
عید کے لیے زور و شور سے خریداری کی جاتی ہے جنمیں لباس اور جوتوں کی خریداری بطور خاص شامل ہے، نماز عید کے بعد لوگ ایکدوسرے کے ہاں آتے جاتے ہیں جبکہ فطرہ سے بھی مستحقوں کے لیے خاصا پیسہ جمع کیا جاتا ہے۔
تنظیم گزارش: زهرا نوکانی