
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے یورونیوز کے مطابق پہلا دھماکہ وزارت داخلہ کی عمارت کے سامنے ہوا جہاں خودکش حملہ آور نے پولیس کی موبایل کے قریب خود کو اڑایا۔
اس دھماکے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگیے ۔
دوسرے واقعے میں دوسرے خودکش حملہ آور نے القرجانی کے علاقے میں تھانے کے قریب خود کو اڑایا جسمیں چار اہلکار زخمی ہوگیے تھے۔
داعش کی میڈیا ٹیم «اعماق» نے اعلان کیا ہے داعش کے افراد نے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
عینی شاہد یوسف کے مطابق زور دار دھماکہ ہوا اور پرطرف دھواں پھیل گیا تھا، تیونس کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ دہشت گرد مایوس ہوکر خودکش حملے کررہے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کے سخت اقدامات کے بعد اس طرح کا ناکام حملوں کو مدنظر قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے واقعوں کی مذمت کرتے ہوئے تیونس سے یکجہتی کا اظھار کیا۔
تیونس کی اہم تنظیموں نے کہا ہے کہ ملک میں ڈیموکریسی کا کامیابی کے بعد دہشت گرد مایوس ہوکر اس طرح کے حملے کررہے ہیں۔
گذشتہ سال ایک خاتون خودکش حملہ آور کے اڑانے سے بھی پندرہ افراز زخمی ہوگیے تھے۔
سال ۲۰۱۵ میں خصوصی صدارتی گارڈز کی بس پر حملے میں بارہ اہلکار ہلاک ہوگیے تھے۔/