IQNA

8:06 - July 24, 2019
خبر کا کوڈ: 3506408
بین الاقوامی گروپ- سروے کے مطابق مدرسوں میں شدت پسندانہ افکار میں اضافہ ہورہا ہے۔

ایکنا نیوزکی رپورٹ کے مطابق شدت پسندانہ امور پر کام کرنے والے ماہر کورٹ اڈلر کا کہنا ہے: ھمبرگ میں شدت پسندانہ سوچ رکھنے والے افراد بچوں پر تیزی سے اثر انداز ہورہے ہیں۔

 

ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے نمایندوں کی درخواست پر پیش ہونے والی رپورٹ کے مطابق ھمبرگ اور ھانزہ اشٹاٹ کے اسکولوں میں ایسے افکار رکھنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

 

جرمنی میں ایران ثقافتی مرکز کے مطابق اسکولوں میں مذھبی اور ثقافتی اختلافات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسایل میں ہرروز اضافہ ہورہا ہے اگرچہ بعض اختلافات آسانی سے حل ہوچکے ہیں تاہم اکثر واقعات میں شدت پسندانہ افکار رکھنے والے افراد سے بات چیت ناگزیرہوجاتا ہے۔

 

ھمبرگ اراکین پارلیمنٹ کے مطابق شدت پسندانہ افکار کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسایل خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں

سال ۲۰۱۸ میں سلفی طرز فکر رکھنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے سال ۲۰۱۷ میں ان افراد کی تعداد دس ہزار آٹھ سو تھی مگر سال ۲۰۱۸ کو گیارہ ہزار تین سو تک انکی تعداد پہنچی ہے ۔

 

زرائع کے مطابق سال ۲۰۱۸ میں ۴۲۲ ایسے افراد جھادی گروپوں میں شامل ھے جبکہ عراق اور شام میں ۱۰۵۰ افراد جہاد کے لیے چلے گیے تھے جنمیں سے ایک تہائی واپس آچکی ہے اور ان میں سے دو سو وہاں مارے گیے ہیں۔

ھمبرگ شہر سے ۸۶ افراد جہاد پر شام و عراق گیے تھے جنمیں سے ایک تہائی ھانزہ اشٹوٹ واپس آچکی ہے ، ڈیموکریٹ نمایندے کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی سے ہم شدت پسندی سے مقابلے کرنا ہوگا اور انکو ملک میں سرگرم ہونے سے روکنا ہوگا۔/

3829536

نام:
ایمیل:
* رایے: