IQNA

15:19 - September 14, 2019
خبر کا کوڈ: 3506620
بین الاقوامی گروپ-18 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات ختم ہونے کے بعد افغان عسکریت پسندوں کا ایک وفد عباس ساتکزئی کی سربراہی میں روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچے۔

ایکنا نیوز- دید نیوز کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’صدر ولادی میر پیوٹن کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زمیر کابلوف نے طالبان وفد کی میزبانی کی‘، تاہم روسی وزارت خارجہ نے مذاکرات کی کوئی تاریخ فراہم نہیں کی۔

ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روسی حکام نے امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا‘۔

 رائٹرز کے مطابق قطر میں موجود ایک سینئر طالبان رہنما نے کہا کہ ّ اس دورے کا مقصد دیگر ممالک کے رہنماوں کو امن مذاکرات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب بات چیت ختم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کرنا ہے جبکہ دونوں فریقین کے مابین تمام مسائل حل کرلیے گئے تھے اور معاہدہ ہونے کے قریب تھےٗ

روسی ترجمان کے مطابق طالبان نے اپنی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ مزید بات چیت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا‘۔

ایک اور طالبان رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دورے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں بلکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے کے لیے علاقائی حمایت کا جائزہ لینا ہےٗ۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے: