IQNA

10:13 - September 30, 2019
خبر کا کوڈ: 3506691
بین الاقوامی گروپ- رپورٹ کے مطابق صربیا اور کروشیا سیاست دانوں کے ایماء پر اسلام مخالف پروپیگنڈوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ایکنا نیوز- الجزیزہ نیٹ کے مطابق ۱۹۹۰ کی دہائی کی یاد پھر سے تازہ ہورہی ہے اور اسلامو فوبیا کی لہر میں تیزی آرہی ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۸ کے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ صربیا اور کروشیا کے سیاست داں کوشش کررہے ہیں کہ بوسنیا کو اسلامی شدت پسندی کا مرکز بنا کر اس کے ٹکڑے کرنے کا منصوبہ بنا سکے۔

 

بوسنیا کے تحقیقی اسلامی مرکز کے محقق«حکمت کاراچیچ»، نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سال ۲۰۱۸ کو صربیا کے لیڈر «میلوراد دودیک»، نے ٹیلی ویژن پروگرام میں رسمی طور پر اذان کی توہین کی۔

 

انکا کہنا تھا کہ مذکورہ ممالک کے سیاست داں سرعام بوسنیا کو اسلامی شدت پسندی کا محور قرار دیتے ہیں اور انکی تقسیم کا مطالبہ کررہے ہیں۔

 

سارایو کے «عبدالصمد پودوژاک» کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فضا میں مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔

 

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بوسنیا جنگ کے بعد اب تک اسلام فوبیا کے حوالے سے مختلف واقعات میں تیرہ افراد ہلاک اور بیس دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔/

3845665

 

نام:
ایمیل:
* رایے: