IQNA

16:34 - September 30, 2019
خبر کا کوڈ: 3506692
بین الاقوامی گروپ-ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے کچھ قاتل انصاف سے بھاگ رہے ہیں۔

ایکنا نیوز- اناطولیہ نیوز کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی گزشتہ برس استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے پیچھے چھپا سچ سامنے لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اب تک جاننا چاہتا ہے کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے اور یہ آپریشن کس نے کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ قتل سعودی عرب میں پس پردہ طاقتوں کے ایجنٹس نے کیا۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک کالم میں طیب اردوان نے بتایا کہ سعودی ایجنٹس کی جانب سے صحافی کا قتل 21ویں صدی کا سب سے زیادہ بااثر اور متنازع حادثہ ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدر نے بیان ایک ایسے وقت میں دیا جب 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کو ایک برس ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی پوچھتا رہے گا کہ ’جمال خاشقجی کی باقیات کہاں ہیں؟ سعودی صحافی کی موت کے حکم نامے پر کس نے دستخط کیے تھے؟ کس نے 2 طیاروں میں سوار 15 قاتلوں کو استنبول پہنچایا؟ ‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ انہوں نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ہرگز نہیں دیا تاہم ملک کے رہنما ہونے کی حیثیت سے انہوں نے صحافی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ ’ جب سعودی حکومت کے لیے کام کرنے والے عہدیداران کی جانب سے سعودی شہری کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا جائے تو بطور رہنما میں لازمی اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، یہ ایک غلطی تھی‘۔

نام:
ایمیل:
* رایے: