IQNA

8:00 - October 16, 2019
خبر کا کوڈ: 3506749
بین الاقوامی گروپ-وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور ایران کے ساتھ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں پر زور دیا۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے شاہ سلمان کو علاقائی تنازعات سفارت کاری کے ذریعے پر امن طور پر حل کرنے کی تجویز دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے بیان میں اس بات کا کوئی تذکرہ موجود نہیں تھا کہ وزیراعظم کی تجویز پر سعودی فرمانروا نے کیا ردِ عمل دیا۔

پاکستان نے ماضی میں بھی 4 مرتبہ ثالثی کی کوشش کی ہے خاص کر 2016 کے آخر میں جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سعودی شیعہ عالم باقر النمر کی پھانسی کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ختم کرنے کے لیے تہران اور ریاض کا دورہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ سعوری عرب اور ایران حریف ممالک تصور کیے جاتے ہیں خاص کر 2015 میں یمن جنگ کے بعد ان کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

بعد ازاں حوثیوں کی جانب سے آرامکو آئل تنصیبات پر حملے کے بعد سے اس کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔

دورہ سعودی عرب کے حوالے سے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی، دوطرفہ تعلقات، علاقائی امور اور خطے کی امن وامان کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ ایک ماہ کے اندر دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور حرمین کے تقدس اور حرمت کے لیے پاکستانی قوم یک آواز ہے۔

انہوں نے محمد بن سلمان کو بھارت کے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات، کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور اس سے علاقے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا۔

وزیر اعظم نے وسیع تر خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور امن و امان کی کوششوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: