IQNA

9:12 - November 04, 2019
خبر کا کوڈ: 3506817
بین الاقوامی گروپ-جمعیت علمائے اسلام واحد جماعت ہے جس نے مذہبی نوجوان کو اعتدال کی راہ دی اور بغاوت سے دور رکھا ہے

ایکنا نیوز- جیو نیوز کے مطابق دھرنے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، یہاں اجتماع کرنے کے بعد یہ مطلب نہیں کہ ہمارا سفر رک گیا،ہم یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کے ساتھ جائیں گے، آج اسلام آباد بند ہے تو پورا پاکستان بندکرکے دکھائیں گے اور جنگ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ تنگ پڑ گئی ہے، ہر شخص الیکشن میں عوام کی طرف دیکھنے کے بجائے کسی اور طرف دیکھ رہا ہوتا ہے، عوام کے ووٹ کو عزت دینا ہوگی اور ہمیں عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا لیکن اس پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔

سربراہ جے یو آئی کے مطابق آج پاکستان کا غریب صبح و شام کی روٹی کیلئے ترس رہا ہے، غریب کے بچے بھوکے سو رہے ہیں،ظالم و جابر طبقہ غریب کو جینے نہیں دے رہا، اگر غریب کو ریلیف نہیں دے سکتے تو قوم پر مسلط رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام واحد جماعت ہے جس نے مذہبی نوجوان کو اعتدال کی راہ دی اور بغاوت سے دور رکھا ہے، اشتعال دلانے والے میرے خیر خواہ نہیں ہیں، کوئی سازشی قوت نہ سمجھے آپ کے طعنوں میں آکر کوئی غلط راستہ اختیار کریں گے، ہم صلاحیت رکھتے ہیں تم ہمیں راستہ نہ دکھاؤ۔ 

مولانا فضل الرحمان کاکہنا تھا کہ ’آپ کہتے ہیں ڈی چوک، ڈی چوک، ڈی چوک تو وہاں خرافات کے علاوہ کچھ نہیں، ڈی چوک پر جو بدبو پھیلائی گئی، اس سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان سن لو، یہ تحریک اور یہ سیلاب آگے بڑھتا جائے گا اور اقتدار سے اٹھاکرپھینک دے گا، ہم یہ میدان سر کرچکے ہیں اور اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھی ہوئی ہے، یہ سیلاب وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کرلے تو کوئی نہیں روک سکتا۔

مولانا فضل الرحمان نے خطاب کے آخر میں  کہا کہ وعدہ کرتے ہیں پیچھے نہیں جائیں گے، یہ توپلان اے ہے، بی بھی ہے اور سی بھی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: