
ایکنا نیوز- ھندوستان ٹایمز کے مطابق گذشتہ روز سینکڑوں نماز گزاروں نے انیس ہفتوں کے تعطل کے بعد سرینگر میں سخت سیکورٹی کی حالت میں نماز ادا کی ۔
نماز کے لیے سخت چیکنگ کے بعد نمازیوں کو اندر جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔
نماز علامہ «احمد سید نقشبندی» نے امامت کی اور انکا کہنا تھا: ہم چاہتے ہیں کہ فوری طور پر میرواعظ عمر فاروق (امام جماعت) اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
نمازی عبدالمجید کا کہنا تھا: انیس ہفتوں کے بعد نماز کی اجازت ملی ہے اور افسوس ہے کہ امام جماعت میرواعظ عمر فاروق کو اب تک نظر بند رکھا گیا ہے۔
گذشتہ روز مسجد کا محاصرہ ختم کیا گیا اور نماز کی اجازت دی گیی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے یہاں پر مارشل لاء نافذ کیا اور اب تک سینکڑوں سوشل ایکٹویسٹوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔/