IQNA

16:23 - July 21, 2020
خبر کا کوڈ: 3507961
تہران(ایکنا) فرزند رسول حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی المناک شہادت کی مناسبت سے مختلف مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالس منعقد ہوئیں۔

فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی  شہادت کا سوگ عالم اسلام بالخصوص عراق، ایران، پاکستان،ہندوستان،لبنان،شام اور بحرین میں منایا جا رہا ہے- اسی مناسبت سے پورے پاکستان کے مختلف شہروں میں کورونا کی وجہ سے محدود پیمانے پر ایس او پیز پر عمل کے ساتھ مجالس کا سلسلہ جاری ہے - نویں امام اور آسمان عصمت و طہارت کے گیارھویں درخشاں ستارے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  220 ہجری قمری کو حکام وقت کے جور و ستم کے تحت شہید ہوگئے اور امامت کی سنگین ذمہ داری آپ کے فرزند حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کندھوں پر آن پڑی۔

 

آپ کا اسم گرامی محمد، ابوجعفر کنیت، اور تقی علیہ السّلام  وجوّاد علیہ السّلام دونوں مشہور لقب تھے- اسی لیے آپ امام محمد تقی علیہ السّلام کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں .چونکہ آپ سے پہلے حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی کنیت ابو جعفر ہوچکی تھی اس لیے کتابوں میں آپ کو ابو جعفر ثانی اور دوسرے لقب کو سامنے رکھ کر حضرت جوّاد بھی کہا جاتا ہے .

 

آپ کے والد بزرگوار حضرت امام رضا علیہ السّلام تھے اور والدہ معظمہ کا نام جناب سبیکہ یا سکینہ سلام اللہ علیہا تھا .حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کو کمسنی ہی میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہوجانا پڑا .آپ کو بہت کم ہی اطمینان اورسکون کے لمحات میں باپ کی محبت ، شفقت اورتربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا .

 

آپ کی عمرمبارک صرف پانچ برس تھی جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفرکرنے پرمجبور ہوئے تو پھرزندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمد تقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی شہادت ہوگئی .

 

دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب حضرت امام جعفرصادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے مگر اس وقت خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علما سے فقہ حدیث تفسیراورکلام پرمناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوتے ہوئے دیکھا گیا.

 

امام محمد تقی علیہ السّلام اخلاق واوصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل، رسول اور آل رسول (ص) کا طرۂ امتیاز تھی کہ ہر ایک سے جھک کر ملنا. ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا. غربا کی پوشیدہ طور پر خبرگیری کرنا اوردوستوں کے علاوہ دشمنوں سے اچھا سلوک کرتے رہنا ، مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اورعلمی اورمذہبی پیاسوں کے لیے چشمہ فیض جاری رکھنا آپ کی سیرت زندگی کے نمایاں پہلو تھے.

 

نویں امام (علیہ السلام) اپنی پوری امامت کے دوران دو عباسی خلیفہ یعنی مامون (١٩٣ تا ٢١٨) اور معتصم (٢١٨ تا ٢٢٧) سے روبرو رہے اور ان دونوں نے آپ کو زبردستی مدینہ سے بغداد بلایا اور مامون نے جس طریقہ سے امام رضا (علیہ السلام) کو اپنے زیر نظر رکھا اسی طرح امام جواد (ع) کو بھی اپنے زیر نظر رکھا ۔

 

 29ذی القعدہ 220ھ میں پچیس سال کی عمر میں معتصم نے آپ کو زہر سے شہید کر دیا اور آپ اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم  (ع) کے پاس کاظمین میں دفن ہوئے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: