
مصر اور اردن کے بعد امارات تیسرا ملک بن چکا ہے جس نے سفارتی تعلقات بحال کردیا ہے گرچہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اس معاہدے سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا خطرہ ٹل جائے گا تاہم کیا ایسا واقعی میں ہوگا؟
فلسطینیوں سے خیانت کی وضاحت
سیدحسن نصرالله نے اس معاہدے کے پر خطاب میں کہا «ہم اس اعلان سے حیرت زدہ نہیں ہوئے اور توقع یہی تھا».
جمعرات کو شیخ محمد بن زاید نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ نتن یاہو اور ٹرمپ سے بات چیت کے بعد فیصلہ ہوا ہے کہ تعلقات کی بحالی کے بعد مغربی کنارے کو ضم کرنے کا سلسلہ روک دیا جائے گا. تاہم اس اعلان کے فورا بعد اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ امارات سے عارضی طور پر فیصلہ ہوا ہے کہ فی الحال مزید علاقوں کو ضم کرنے کا سلسہ روکا جائے گا تاہم یہ آپشن اب بھی زیر غور ہے. انہوں نے بے شرمی سے کہا: «ہم سرزمین پر اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے!».
امریکن اٹلانٹک اسٹریٹیجک مرکز نے «امارات اور اسرائیل میں معاہدہ کیوں ہوا؟» کے عنوان سے «گریم ووڈ» کے قلم سے لکھتا ہے: سعودی عرب رسمی طور پر اس معاہدے کا حصہ نہیں لیکن وہ امارات کا بھائی ہے اور اس نے شوق سے اسکا خیرمقدم کیا ہے اور گویا امارات سعودی کا نمایندہ ہے۔
رائٹر لکھتا ہے: سعودی سیاست سے واقف ہر بندہ جانتا ہے کہ کوشنر اور محمد بن سلمان میں برراہ راست تعلقات قایم ہیں. اور فلسطینوں سے مشورت کے بغیر ارب پتی شہزادے اور کوشنز میں یہ معاہدہ ہوا ہے۔

ٹرمپ اور نتن یاہو کی چاپلوسی
الجزیره نیوز مروان بشاره اس سوال پر تجزیہ کرتی ہے کہ امارات اسرائیل سے معاہدے میں جلدی کیوں کررہا تھا؟ مذکورہ نیوز ایجنسی لکھتی ہے کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان خفیہ تعلقات مدتوں سے برقرار تھا تاہم اب امریکی صدر کی زیرنگرانی رسمی طور پر اسکا اعلان کیا گیا ہے.

رائٹر کے مطابق اس معاہدے کا اصل مقصد ٹرمپ اور نیتن یاہو کو خوش کرنا ہے۔
مزید لکھا ہے کہ امارات نے اس اقدام سے ٹرمپ اور نتن یاہو کو سیڑھی فراہم کی ہے اور عالمی سطح پر مغربی کنارے کے ضم کرنے کے خلاف جو مظاہرے ہورہے تھے اسکو روکنا بھی معاہدے کا مقصد تھا۔
صھیونی رژیم کی تقویت
بشاره کا مزید کہنا تھا: اسرائیل امارات اور عربی ممالک کے کاندھے پر چڑھ کر فلسطینیوں کے حقوق پامال کرتے رہیں گے۔
انکا کہنا تھا کہ امارات کا خیال ہے کہ عرب ممالک مذاکرات سے زیادہ حقوق حاصل کرسکتے ہیں تاہم ایسا ہوگا نہیں بلکہ اسرائیل کو الٹا ایک اہم بازار ہاتھ آئیگا۔

امارات و اسرائیل پالیسیوں میں یکسانیت
بشاره کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی پالیسیوں میں یکساں امور موجود ہیں اور امارات نے کبھی اسرائیل سے نفرت کا اظھار نہہں کیا ہے اور یمن و لیبیا میں امارات مکمل طور پر اسرائیلی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے۔
مزاحمتی بلاک اور ایران دشمنی بھی دونوں ممالک کی پالیسیوں میں مشترک نکتہ ہے۔
معاہدہ برائے افزایش فسادات
الجزیره رائٹر کے مطابق اگر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوا تو میڈل ایسٹ میں صورتحال مزید سنگین ہوگی اور اس معاہدے کے حامی جان لیں گے کہ اس سے جنگ کی راہ مزید ہموار ہوچکی ہے۔
رائٹر کے مطابق امن اس وقت ہوسکتا ہے جب صھیونی رژیم مقبوضہ علاقوں سے عقب نشینی کرے گا اور فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کرے گا۔/