
آستانہ عباسی کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق نجف کے ایک علمی ادارے سے ملنے والے قرآنی نسخے چودہویں صدی ہجری سے متعلق بتائے جاتے ہیں اور ان نایاب نسخوں کو تاریخ میں محفوظ رکھنے کے لیے انکی مرمت کی جارہی ہے۔
مذکورہ مرکز کے سربراہ لیث علی لطفی نے الکفیل چینل سے گفتگو میں کہا : مرکز کو تاریخی نسخوں کی ترمیم اور مرمت پر کافی تجربہ حاصل ہے اور اسی بنیاد پر مذکورہ نسخوں کو ماہرین کے زریعے سے تیار کی جارہی ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ مذکورہ نسخوں کے جلد پر تزئین و آرائش اور سونے کے پانی سے کشیدہ کاری کی مرمت انتہائی زوق و شوق سے جاری ہے۔
لطفی کا کہنا تھا: انکا کہنا تھا کہ جلد کے بعض حصوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور ان سوراخ یا نقص شدہ حصوں کو درست انداز میں مرمت کرنا بڑا چیلنج ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ماہرین کے مشوروں کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ:
- جلد کے تصاویر لیکر اصل شکل کے مطابق مرمت سازی.
- باریک قلم سے سونے کے پانی سے کشیدہ شدہ حصوں کی مرمت.
- ضائع شدہ حصوں کو درست انداز میں اصل مواد کے مطابق درست کرنا.
- نسخوں کی درست انداز میں بائنڈنگ.
- مرمت کے بعد خصوصی باکسز میں نسخوں کی نگہداری.
انکا کہنا تھا کہ ان میں موجود قرآن کو باکل اصل شکل میں مرمت کرکے اسکی ڈیجیٹل کاپی بھی تیار کی گیی ہے۔/