IQNA

10:50 - September 08, 2020
خبر کا کوڈ: 3508183
تہران(ایکنا) شمالی اسپین میں ۲۵۶ مساجد اور پانچ اسلامی مراکز موجود ہیں جبکہ اس سال اسکولوں میں مسلمان طلبا کے لیے اسلامی کورسز کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

شمالی اسپین میں اس سال سرکاری اسکولوں میں مسلمان طلبا کے لیے اسلامی نصاب شامل کیا گیا ہے اور مسلمان نشین شہروں میں بارسلونا، لِریڈا، خیرونا اور ٹاراگونا شامل ہے جہاں سال ۲۰۲۱ ـ ۲۰۲۰ کے لیے یہ نصاب شامل کیا جارہا ہے.

 

کاتالونیا اسپین کا ایک خودمختار علاقہ ہے جو جزیرہ ایبری کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اس کا دارالحکومت بارسلونا ہے جو اسپین کا دوسرا بڑا شہر شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ شمال کی سمت سے فرانس اور مشرقی سمت سے میڈیٹرانہ اور مغرب سے آراگون اور جنوب سے والنسیا سے لگتا ہے۔

 

اندلس میں مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں کاتالونیا مسلمانوں کا اہم مرکز شمار ہوتا تھا ۔

 

مورو   کی قوم یہاں اباد تھی جو موریتانیہ سے یہاں آئی تھی، یہاں پر اسلامی حکومت نافذ تھی اور سال ۷۶۰ کو فرانس کے لوگ یہاں آئے اور اس سرزمین پر انکا قبضہ شروع ہوا اور سال ۸۰۱ کو مکمل طور پر یہ علاقہ انکے کنٹرول میں چلا گیا۔

 

کاتالونیا میں نوے سال اسلام نافذ رہا جب اندلس میں اوموی دور کی کمزور حکومت یہاں پر قائم تھی اسکے بعد یہاں عیسائی حکومت قائم ہوئی ۔

 

اسی کی دھائی میں یہاں اسلامی مہاجرت کا سلسلہ شروع ہوا جب لوگ یہاں کھیتی باڑی کے غرض سے لائے گیے۔

 

کاتالونیا اسپین کے ان محدود علاقوں میں شامل ہے جہاں اب اسلامی دور کو کوئی اثر باقی نہیں رہا ہے۔

 

کاتالونیا میں سال ۲۰۱۶ کے سروے کے مطابق ۲۵۶ مساجد آباد ہیں جبکہ چھ صوفیہ مرکز بھی یہاں پر آباد ہیں۔

 

بارسلونا جو مرکز شمار ہوتا ہے یہاں پر ۲۴ مساجد، سانتا کلوما میں آٹھ مساجد، تراسا میں سات، سابادی میں پانچ، بادالونا میں چار اور مارتوری میں چهار مساجد موجود ہیں۔

 

البتہ یہاں کی مساجد چھوٹی ہیں اور اکثر میں ۲۰ سے ۳۰ نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔

 

سال ۲۰۱۴ کے مطابق یہاں پر پانچ اسلامی ادارے موجود ہیں جنمیں مختلف مذہبی اور ثقافتی ادارے شامل ہیں۔

 

آخری سروے کے مطابق کاتالونیا میں ، ۵۱۵ ھزار مسلمان رہتے ہیں جو مجموعی آبادی کی ۶,۸٪ فیصد شمار ہوتا ہے۔/

3921500

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: