IQNA

8:26 - November 24, 2020
خبر کا کوڈ: 3508532
تہران(ایکنا) امریکن یونیورسٹی کے استاد نے امریکہ میں اقلیت مذاہب و اقوام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے فرقہ وارانہ بیانات انکی شکست کی وجہ ہوسکتی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے تاہم  سال ۱۹۹۲ کے بعد وہ پہلا امریکی صدر ہے جو دوسرے دور میں شکست سے دوچار ہوئی ہے۔

 

انتخابات میں ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ اس بار عوام نے بڑی تعداد میں حق رائے دہی استعمال کی ہے اور بالخصوص اقلیتّوں نے ووٹ خوب ڈالا اور کہا جاتا ہے کہ مسلمان جو ٹرمپ کے ڈسے ہوئے ہیں ان کی اکثریت نے جوبائیڈن کے حق میں ووٹ استعمال کیا۔

تاہم جوبائیڈن کا انتخاب صرف وجہ نہیں بلکہ ٹرمپ دور کی خارجہ پالیسی بالخصوص مغربی ایشیاء کے حوالے سے انکو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔

 

پرنسٹن یونیورسٹی اسٹیفن ماسیدو (Stephen Macedo، نے اس بار انتخابات کو زیادہ اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا، اقلیتوں کی بھرپور شرکت اور ٹرمپ کی کمزور مینجمنٹ انکی شکست کی وجہ بنی۔

 

ماسِیڈو جو آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرچکے ہیں انہوں نے لیبرلیسم، انصاف، ماڑدن سوسائیٹیز اور امریکی بنیادی قوانین کے موضوعات پر اچھے خاصے مضامین لکھے ہیں۔

پرینسٹن یونیورسٹی استاد کی گفتگو:«نسل پرستی کی مخالفت نہ کرنا» ٹرمپ کی شکست کی وجہ

وہ امریکن علمی سوسائٹی کے نائب صدر بھی ہے اور «ڈیموکریسی خطرے میں: پبلک پالیسی اور امریکن شہریت کی تجدید» (Democracy at Risk: Public Policy and the Renewal of American Citizenship)  کتاب حال ہی میں چھپ چکی ہے۔

 

اسٹیفن ماسیڈو نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سروے سے معلوم تھا کہ ٹرمپ کو شکست ہوگی البتہ جوبائیدن نے سروے سے بھی بہتر نتیجہ دکھایا، کوویڈ ۱۹ بھی ٹرمپ کی شکست کا سبب بنا۔

پرینسٹن یونیورسٹی استاد کی گفتگو:«نسل پرستی کی مخالفت نہ کرنا» ٹرمپ کی شکست کی وجہ

ماسیڈو کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انکی اقتصادی پالیسی بھی اچھی نہیں رہی اور اس وجہ سے بھی وہ مار کھا گیا اہم انکی تفرقہ وارانہ پالیسی اہم وجہ رہی، اور کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ خود اپنا دشمن نکلا.

 

پریسنٹن یونیورسٹی استاد نے تاکید کی کہ اقلیتوں کے ساتھ رویہ اور پالیسی اہم ترین وجہ قرار دی جاسکتی ہے جس کی بناء کو ٹرمپ کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ انتخابات کے بعد کچھ کوبائی امریکن اور بعض افریقی سیاہ فاموں میں ٹرمپ کی مقبولیت بڑھی ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ افراد کی درست شناخت مشکل اور پیچیدہ ہے۔

انہوں نے امریکن کابینہ اور حکومت میں مسلمانوں کی شمولیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جوبائیڈن کے علاوہ بہت سے ری پبلیکن بھی مسلمانوں کے مخالف نہیں جو امریکی آبادی کا ایک فیصد شمار ہوتا ہے ۔.

 

ماسیڈو نے اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ جوبائیڈن بھی اسرائیل کا دوست ہے اور نتین یاہو سے انکی قریبی دوستی ہے تاہم وہ فلسطین – اسرائیل پالیسی میں توازن یا بیطرفی دکھا سکتا ہے۔

 

پرنسٹن یونیورسٹِی استاد کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن دوبارہ عالمی معاہدوں میں شامل ہوسکتا ہے وہ ایران کے ساتھ معاہدے کی طرف بھی آسکتے ہیں اور جمال خاشقچی قتل کیس کو کھول سکتا ہے۔

 

ماسیڈو کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں ری پبلیکن کی اکثریت ہے اور ایران سے جوہری معاہدے کی طرف آسانی سے واپسی مشکل ضرور ہے تاہم اب بہتر فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔/

3936450

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: