IQNA

7:51 - December 05, 2020
خبر کا کوڈ: 3508582
تہران(ایکنا) بائیس قانونی اداروں نے انسانی حقوق تنظیم کو خط میں بحرین کی صدارت کی شدید مخالفت کی ہے۔

مذکورہ تنظیموں نے انسانی حقوق کی ایشیاء تنظیم ک خط لکھا ہے جسمیں بحرین کے انسانی حقوق کے حوالے سے سیاہ کارناموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کونسل کی صدارت کے حوالے سے بحرین کی شدید مخالفت کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

امریکی تنظیم برائے ڈیموکریسی و انسانی حقوق بحرین،ADHRB)، مرکز حقوق و ڈیموکریسی بحرینBIRD)  انٹرنیشنل ہیومن رائٹس سروسزISHR)  ان تنظیموں میں شامل ہیں جنہوں نے بحرین میں منظم سرکاری سرپرستی میں انتقامی کاررائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے موقف کا اظھار کیا ہے۔

 

خط میں سال ۲۰۲۰ کی رپورٹ جسمیں انسانی حقوق کے جنرل سیکریٹری نے ملک میں انتقام کارروائیوں کا زکر کیا تھا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سال ۲۰۰۶ سے اب تک انسانی حقوق کے نمایندوں کی ملک میں آنے کی مخالفت کی جارہی ہے۔

 

خط لکھنے والے تنظیموں نے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحرین کی اس کوشش کی مخالفت کریں۔

 

سفارتی زرائع کے مطابق بحرین کی جانب سے کونسل کی صدارت کےلیے درخواست دینے کے صرف دو دن بعد قطر قطر نے رسمی طور پر اس کی مخالفت کی ہے۔

 

ایشائی گروپ میں ہونے کی وجہ سے قطر کی مخالفت کے ساتھ بحرین کو بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

انسانی حقوق کونسل کی صدارت کے لیے ہر سال ایک نیے ملک کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

 

سال ۲۰۲۱ کے لیے قانونی طور پر ایک ایشیائی ملک کو سربراہ بننا ہوگا تاہم قطر کی مخالفت جارہی رہی تو بحرین کو اس درخواست سے پسپائی کر نا پڑسکتا ہے۔

اس درخواست کے ساتھ ہی مختلف انسانی حقوق تنظیموں نے مخالفت کی اور انکا کہنا تھا کہ بحرین اور سعودی عرب اس صدارت کی وجہ سے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈال سکتے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ۴۷ ممالک رکن ہیں جنکا کام انسانی حقوق کے کاموں اور اقدامات پر نظر رکھنا ہے تاہم بعض استعماری اور عرب ممالک کے ظالمانہ اقدامات سے اس کونسل پر حرف آتا رہا ہے جنکی وجہ سے اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہورہی ہے۔/

3938972

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: