IQNA

7:30 - December 06, 2020
خبر کا کوڈ: 3508588
تہران(ایکنا) بیلجیم کی وزارت انصاف نے بعض مسلم علما کو مراکش کے لیے جاسوسی کے الزام میں جامع مسجد بروکسل کو دوبارہ کھولنے کی درخواست رد کردی۔

آٹھ مہینے پہلے بیلجیم کی حکومت نے وہابی شدت پسند علما کو سعودی عرب کے لیے کام کرنے اور انکے اثرات روکنے کے لیے جامع مسجد بروکسل کو بند کرنے کا حکم دیا تھا اور انکی تمام سرگرمی روک دی گئی تھی تاہم اب اس مرکز نے مسجد کھولنے کی درخواست دی تھی۔

 

کابینہ میں اکثر وزراء کی مثبت نظر کے باوجود وزیر انصاف ونسان وان کیکنبورن نے سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض مساجد کے علما اور ورکر مراکشی حکومت کے لیے جاسوسی کررہے ہیں اور اس بناء پر مسجد کھولنے کی اجازت نہیں دیں سکتے.

 

بیلجیم حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ مشکوک افراد کو ان مراکز سے خارج کیا جائے، رپورٹ کے مطابق سعودی کے بعد مراکش مساجد میں جگہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

 

ستر کے عشرے میں تیل بحران کے بعد اس وقت جامع مسجد بروکسل کو مراکش کی جانب سے سعودی کے حوالے کیا گیا تھا

جس کے بعد سعودی اثرات کی وجہ سے یہاں پر وہابیت کی ترویج شروع کی گیی اور سلفی شدت پسندی نے معاشرے میں اثرات ڈال دیے ہیں، بیلجیم میں بروکسل کو داعش اور دیگر تکفیری تنظیموں کے لیے اہم مرکز کے طور پر قرار دیا جاتا ہے جہاں سے افراد شام و عراق جاکر لڑتے ہیں۔/

3939097

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: