وطن عزیز اس وقت آفتوں کی زد میں ہے- عمران خان کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دہرے پریشر کا شکار ہے- اسٹیبلشمنٹ عزت و زلت کے دوراہے پہ کھڑی سوچ رہی ہے- ریاست کو اندورونی اور بیرونی سطح پہ اس مقام تک دھکیلا جا رہا ہے جہاں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا- اس مشکل کا حل صرف یہ ہے کہ پاکستان کی عوام حقیقت حال کو سمجھنے کی کوشش کرے-
عالمی حالات کی کسوٹی پہ پرکھے بغیر پاکستان کی موجودہ آفتوں کا صحیح ادارک ممکن نہیں-
عالمی سطح پر ڈیل آف سینچری کا ڈراپ سین ہوچکا ہے- لولی لنگڑی اور مجبور محض فلسطین کی عارضی ریاست کا صیہونی منصوبہ اعلان کے ساتھ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے- اب بلی تھیلی سے باہر آرہی ہے- اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لئے امریکہ نے اپنے عربی مہروں کو ظاہر کردیا ہے- کیونکہ ڈیل آف سینچری کی ناکامی , افغانستان اور عراق سے انخلا کی رسوائی , شام میں شرمناک شکست اور یمن میں اتحادی افواج کی تیزی سے گرتا ہوا مورال اور اسرائیل کے وجود کو خطرے میں دیکھ کر اپنی خفت مٹانے کے لئے امریکہ نے عرب ممالک میں اپنے پراکسی، کھل کر میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے- سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے اپنی خفیہ یاری کو عیاں کردیا ہے- ترکی نے خلافت عثمانی کے احیاء کا خواب ادھورا چھوڑ کر اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے- باقی عرب ممالک تلچھٹ کی طرح عرب کے صحراوں میں خاموشی سے بیٹھ جائنگے-
اب صرف عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان رہ گیا ہے جس نے بھاری بھرکم قرضوں , عرب ممالک سے مربوط معاشی مجبوریوں اور امریکی دباؤ کے باوجود مشرقی بلاک کا خواب دیکھنے کی جرات کی ہے- اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار , روس سے تعلقات کی بحالی اور تجارتی معاہدے , سی پیک کے توسط سے چین کو دنیا تک رسائی دینا , ایران کے ساتھ لاجسٹیکل سپورٹ میں اضافہ کرنا , ایران , روس , چین اور ترکی کو ملا کر مشرقی بلاک تشکیل دینے کی کاوش وہ سنگین جرائم ہیں جن کی وجہ سے امریکہ اور اس کے پراکسی عرب ممالک اس وقت پاکستان کو سزا دینے پر تلے ہوے ہیں-
ایف اے ٹی ایف کا دباؤ , بھارت کے چیف آف آرمی سٹاف کا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تاریخی دورہ , بن سلمان کا عمران خان سے ملاقات کا انکار , متحدہ عرب امارات کی سفری پابندی , سعودی عرب کی طرفسے تیل کی بندش سمیت تین بلین ڈالر امدادی رقوم کی واپسی کے مطالبے نے پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے-

اس وقت ریاست پاکستان عزت و ذلت کے دوراہے پہ کھڑی اپنی عوام سے شعور اور آگاہی کا مطالبہ کر رہی ہے- ان مشکلات کا صرف اسی وقت مقابلہ ممکن ہے جب ہم ایک قوم بن کر ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے پاک فوج اور موجودہ حکومت کا ساتھ دیں جبکہ اس نازک صورتحال میں کچھ مہینے قبل سعودی لابی نے محرم میں فسادات اور اہم شخصیات کے قتل کے ذریعے ملک میں مذہبی فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جسے شیعہ سنی علماء نے اپنی بصیرت سے ناکام بنا دیا- دوسرے مرحلے میں ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار بنانے کے لئے پی ڈی ایم کو وسائل دیکر میدان میں اتارا گیا ہے- پی ڈیم ایم کے جلسوں میں کھل کر پاک فوج کی مخالفت اور ریاستی اداروں پر تابڑ توڑ حملے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کا اصل ہدف کیا ہے-
مولانا فضل الرحمٰن , نواز شریف اور آصف علی زرداری وہ ڈوریاں ہیں جن کا ایک سرا پاکستان میں تو دوسرا سرا عرب و غرب میں موجود ہے جنہیں بوقت ضرورت کھینچ کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سیدھا کیا جاتا ہے-
فوج اور حکومت اب تک ڈٹی ہوی ہے لیکن پریشر ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے- ملک معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے- جب بھی اس قسم کے حالات بنے ملک کے ناخداؤں نےبعض اوقات دوہری پالیسی کو اختیار کیا.
جیسے افغان وار میں ظاہراً امریکہ کا ساتھ دیا جبکہ اندر سے اپنے سر پر کھڑے دشمن یعنی گرم پانیوں کا خواب دیکھنے والی طاقت روس کو پسپا کردیا اور تصویر کے پیچھے امریکن ڈالر پہ ہاتھ صاف کرکے اپنی معیشت کو کچھ سالوں تک سہارا بھی دیا-
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی عوام کچھ دیر کے لئے ملت ایران کی طرح روکھی سوکھی کھا کر ملکی معیشت اور عزت و وقار کی ٹوٹی کمر کو ہمیشہ کے لئے ٹھیک کرتے ہیں یا پھر اسرائیل کو تسلیم کرکے کچھ دیر کے لئے مصنوعی سہارا لے کر ہمیشہ کے لئے زلت و رسوائی کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں-
مشکل یہ ہے کہ پاکستان کی مختلف الاخیال عوام کی طرف سے دونوں صورتوں میں مزاحمت کا سامنا ہوگا-
لہٰذا عرب و غرب کی لابیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان میں فرزندان بیت المقدس شیعہ سنی بھائیوں بالخصوص شیعہ الیمنٹس کو اپنی صفوں میں موجود افتراق کو ختم کرکے سخت ترین قوت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان اور قائد اعظم کا ویژن دونوں قائم رہیں کیونکہ مقتدر حلقوں کے نزدیک پاکستان کا دونوں پاؤں پہ قائم رہنا ضروری نہیں. اسے قائم رکھنا ہے چاہے ایک پاؤں کٹا کر ہی کیوں نہ رہ جائے- بس اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب ایسا لنگڑا اور کمزور پاکستان ہے جسے کسی بھی وقت آرام سے اپنے اھداف کے سامنے لٹایا جاسکتا ہے-
رسول میر