کوئٹہ پھر لہو لہو ۔۔۔۔

IQNA

کوئٹہ پھر لہو لہو ۔۔۔۔

9:06 - January 07, 2021
خبر کا کوڈ: 3508734
داعش نے پاکستان میں اپنی اعلانیہ کاروائیوں کا آغاز کر لیا ہے

شیعوں کی لاش دیکھ کر شادیانے بجانے والے - چاہے وہ ناداں مذہبی جنونی ہوں خواہ احمق بے خبر متعصب تنظمییں، جان لیں کہ خطرہ پیدا ہوچکا ہے کہ اب پورے ملک میں اس کی جولانیاں ہونگی، سڑکوں کے کنارے فوجیوں کے سر سجیں گے، چھاؤنیاں نذر آتش ہونگی، شام اور لبنان کے واقعات دہرائے جائیں گے یہود و ہنود کی اعلانیہ مداخلتیں ہونگی، بلا تفریق شیعہ وسنی جوان خواتین بازاروں میں فروخت ہوں گی اور خوف کا راج ہوگا، شہروں کے شہر ویراں ہونگے اور اگر حکمرانوں نے داعش کو لگام نہ دیا اور اس حملے کو پاکستان پر حملہ قرار نہ دیا اور اسکا فوری جواب نہ دیا تو پوری پاکستانی قوم سوگوار ہوجائے گی اور طویل المدت دہشت گردی کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑے گی۔

یہ وہ وقت ہوگا جب قوم کو اپنا دفاع خود کرنا پڑےگا اور کوئی بھی سرکاری اجازت یا منظوری کا انتظار نہیں کرےگا۔

کوئٹہ پھر لہو لہو ۔۔۔۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سی ، سی آئی اے ، موساد اور RAW اور کون سے صہیونی اِس میں ملوث ھیں ، اگر ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کا یہ بیانیہ ھے کہ یہ غیر ملکی سازش ھے تو اس سازش کی سرکوبی کِس کی ذمہ داری ھے ؟  پچھلے 35 سالوں سے اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کا یہ بیانیہ سُنتے سُنتے لوگ تھک چکے ہیں ۔    

یہ ٹھیک ھے کہ داعش بنانے میں امریکا ، اسرائیل ، برطانیہ اور سعودی عرب کا ہاتھ ھے ، لیکن سوال یہ ھے کہ یہ داعش پاکستان کیسے پہنچی اور کب پہنچی ؟؟؟ اور داعش سے قبل اِسی فکر کی تنظیمیں پاکستان میں موجود تھیں یا نہیں ، اور ھیں یا نہیں ؟؟؟ تو اِس فکر کی سرکوبی کے لیئے ریاست نے کیا اقدامات اٹھائے ؟

اصل حقیقت یہ ھے کہ  ،

 یہ بیانیہ تو پچھلے 40 سالوں سے اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ ھے ھی  کہ ، پاکستان دشمنوں میں گھِرا ھوا ھے ، پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ھے ، پاکستان کے خلاف بیرونی قوتیں سرگرمِ عمل ھیں اور پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش جاری ھے ، اور اب اِس رٹے رٹائے بیانیے میں سی پیک کا اضافہ ھو گیا ھے کہ یہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی سازش ھے ۔۔۔

کیا 80 کی دہائی سے لیکر 2010 تک  سی پیک کا وجود تھا ؟ کہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیئے ملک میں شیعوں کا قتال کیا جا رہا تھا ؟ ریاست اب سی پیک کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رھی ھے ہمارے لوگ بھی اگر اِسی بیانیے کو آگے بڑھائیں گے تو یہ تو ریاست کی ناکامی کو چھپانے اور اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ھوگا ۔۔۔۔

یہ داعش پاکستان میں نئی نہیں یہ ایک فکر و سوچ کا نام ھے ، جو عرصہ دراز 40 سالوں سے ملک میں موجود ھے ۔ یاد رھے کہ اسلام آباد کی لال مسجد کی خواتین نے بہت پہلے داعش کی بات کی تھی ۔ دنیا میں اِس کے مختلف نام ھیں بین الاقوامی سطح پر داعش ، القاعدہ ، اور بوکوحرام اِس کے نام ھیں ، ہمارے خطے میں اِس کا نام طالبان ھے اور ملکی سطح پر اِس کا نام سپاہ صحابہ ، لشکرِ جھنگوی ھے ۔ غور طلب بات یہ ھے کہ ملک میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کی جڑوں کا کبھی صفایا نہیں کیا گیا صرف دکھاوے کے لیئے شاخیں کاٹیں گئیں اور اس دہشت گردی اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیئے صرف خیبرپختونخوا کے اُن علاقوں میں کچھ حد تک سنجیدہ کاروائیاں کیں گئیں جہاں اسٹیبلشمنٹ کی اپنی ضرورت تھی ۔

میں نے ہمیشہ یہ کہا ھے کہ قوم اِس دکھاوے کے بیانیے پر بلکل کان نہ دھرے کہ دہشتگردوں اور دہشتگردی کا صفایا کر دیا گیا ھے ۔۔۔۔

40 سال قبل ریاست نے جو بیج بویا تھا وہ اب صرف ایک تناور درخت ھی نہیں ھے بلکہ اس کی جڑیں ملک بھر میں پھیلی ھوئی ھیں ، شہروں ، محلّوں اور گلی کوچوں میں موجود ھے اور اِس دہشت گردی کا سوئچ بھی اُن ھی دہشتگردوں کے ہاتھوں میں ھے جب چاہیں On کریں جب چاہیں Off کریں ۔۔۔۔

یہ تب تک ختم نہیں ھوگا جب تک کے اس کی جڑوں کے مکمل خاتمے کے لیئے حقیقی ، سچی اور سنجیدہ کاروائیاں نہیں کی جاتیں ، اور اِس کی جڑیں اُن  مدارس اور مساجد میں ھیں جو وہابی و تکفیری خیالات کی پناہ گاہیں و ترویج و اشاعت کی اماجگاہیں ھیں ۔۔۔۔ 

اور مجھے ایسا کوئی کام اور اقدام ھوتا ھوا نظر نہیں آتا ۔

ابوعمار

نظرات بینندگان
captcha