IQNA

9:31 - March 05, 2021
خبر کا کوڈ: 3508983
تہران(ایکنا) ستر سالہ علی الجیزاوی کا کہنا ہے کہ پچاس سال سے قرآن کریم اور کتاب مقدس کی جلد بندی کررہا ہوں اورکبھی تھکن یا بوریت کا احساس نہیں کیا۔

اسکائی نیوز عربی کے مطابق جنوبی مصر کے شہر قنا کے ستر سالہ علی الجیزاوی سکون سے بیٹھا قرآن کریم کی جلد بندی میں مصروف عمل ہے۔

 

قرآن و انجیل کی بڑی تعداد یہاں ان کے پاس موجود ہیں ۔

 

الجیزاوی (۱۹۶۹) سے اپنے والد کے ساتھ اس شعبے سے منسلک ہوگیے تھے۔ اب سات سالوں سے وہ قاہرہ میں ایک اشاعتی ادارے سے وابستگی کے بعد  دوبارہ اپنے شہر میں اس کام کو آگے بڑھا رہا ہے۔

 

اب قنا شہر میں قرآن کریم اور مقدس کتاب کی جلد بندی کے حوالے سے وہ معروف ہوچکا ہے۔

 

الجیزاوی کے مطابق اٹلی سے یہ فن مصر آیا ہے اور انکی رھنمائی سے یہ شعبہ اب مصر میں فعال ہوچکا ہے ۔

قرآن و انجیل کی جلد بندی قدیم طرز پر

الجیزاوی قرآن اور کتاب مقدس کی جلد بندی کے حوالے سے کہتا اہے: قرآن کریم کی جلد بندی کے لیے کارٹن اور چمڑے کے بنائے جلد سے یہ کام انجام پاتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ وہ اس روایتی طرز کو پسند کرتا ہے اور مشین کے زریعے سے کام میں انہیں مزہ نہیں آتا۔

 

الجیزاوی کے مطابق اسی کے عشرے سے وہ انہیں وسائل کے ساتھ قرآن و انجیل کی جلد بندی میں مصروف ہے۔

قرآن و انجیل کی جلد بندی قدیم طرز پر

انکا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دس سال تک مزید یہ طرز باقی رہے گا اور مشینوں کی آمد سے مزید لوگ اس طرح کام نہیں کریں گے۔

 

الجیزاوی فارغ اوقات اوقات میں قرآنی آیات کی خطاطی کرکے انہیں دکان کی دیوار پر چساتے ہیں اور انکا ایمان ہے کہ اس طرح سے انکے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ انکو اپنے کام سے محبت ہے اور وہ اس کام میں کبھی بوریت یا تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے۔

 

الجیزاوی کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کی برکت سے اگر وہ چوبیس گھنٹے بھی کام کریں تو انہیں تکلیف نہیں ہوتی۔/

3956681

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: