IQNA

14:50 - March 10, 2021
خبر کا کوڈ: 3509012
تہران(ایکنا) سال ۲۰۱۵ میں سٹی کونسل کے چھ میں سے چار ممبر مسلمان تھح۔

نیوز ایجنسی Hamtramck، کے مطابق سال ۲۰۲۱ کو اگرچہ مشی گن مسلمان آبادی کے حوالے سے چھٹے بڑی ریاست میں شمار ہوتا ہے مگر یہاں کے مسلمان معروف ہے۔

 

شهر همٹرامک (Hamtramck)  پہلا شہر ہے جس کی اکثریت مسلمان ہے اور سال ۲۰۱۰ کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی ۲۲۴۲۳ ہے۔

 

همٹرامک بیسویں صدی میں امریکن- پولینڈی ثقافتوں کے شہر میں شمار ہوتا ہے تاہم تیس سالوں سے یہاں یمن اور بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں مہاجر آئے ہیں ، سال ۱۹۷۰ میں ستر فیصد آبادی پولینڈ کے تھی تاہم اب گیارہ فیصد پولینڈی والے شمار ہوتا ہے۔

 

متعدد کارخانوں کی بندش سے اب یہ شہر غریبوں کے شہر میں بھی سرفہرست شمار ہونے لگا ہے۔

 

 Freep ادارے کا کہنا ہے: پولینڈ والوں کے بعد اب بوسنیا کے لوگ بڑی آبادی بن چکے ہیں۔ سال ۲۰۱۵ کو ۶ سٹی کونسل ممبران میں چار مسلمان تھے۔

 

البانیہ، مقدونیہ اور یوکرائن سے کافی لوگ یہاں آباد ہوچکے ہیں۔ سال ۲۰۰۱ کو بنگلہ دیش، بوسنیا اور عراقی مسیحی کافی یہاں آئے تھے۔

سال ۲۰۱۱ سے ہر پانچ میں س ایک شخص ایشین تھا ،سال ۲۰۰۳، سے ۳۰ زبان بیکوقت اس شہر میں بولی جاتی ہیں اور یہاں پر اسلام، مسیحیت، هندوئیسم اور بودیسم کے ماننے والے ہیں۔

 

سن ۲۰۰۰ میں یہاں پر مسجد جامع الاصل بنگلہ دیش کے لوگوں کے توسط سے قایم ہوئی جہاں سے ازان نشر ہوتی تھی. سال ۲۰۰۴ میں رسمی طور پر یہاں سےاذان نشر کرنے کی اجازت صادر کی گیی، اس وقت یہاں پر چار مسجدیں موجود ہیں۔/

/3958611

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: