IQNA

9:47 - April 15, 2021
خبر کا کوڈ: 3509142
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی کو 60 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ نطنز کی جوہری تنصیب پر اسرائیل کی 'جوہری دہشت گردی' کا ردعمل ہے۔

 انہوں نے یہودی ریاست کو مخاطب کرکے کہا کہ تہران جدید سینٹری فیوجز شروع اور اب زیادہ بہتر یورینیم تیار کرے گا جو 'اسرائیل کے بدنما کردار کا جواب ہے'۔

انہوں نے کہا کہ جو اسرائیل نے کیا وہ جوہری دہشت گردی تھی اور جب ہم کر رہے ہیں وہ قانونی ہے۔

ایران کے علاقائی حریف سعودی عرب نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور تہران سے مطالبہ کیا کہ 'وہ تناؤ میں کمی لائے'۔

اس سے قبل ایران نے اپنی اہم جوہری تنصیب نطنز میں تخریب کاری کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی تھی جس سے یورینیئم افزودگی میں استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچا تھا اور ایران نے انتقام لینے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی صدر جو بائیڈن کو متنبہ کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کو ختم کرکے ہی صورتحال بھر کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'کوئی متبادل نہیں اور زیادہ وقت نہیں ہے'۔

اس سے قبل جواد ظریف نے تہران میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اگر اسرائیل کا خیال ہے کہ اس حملے سے جوہری بات چیت میں ایران کمزور ہوجائے گا تو اسرائیل نے بہت بڑی غلطی کردی'۔

گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکا اتوار کو ہونے والے حملے میں ملوث نہیں تھا اور امریکا نے حملے کی وجوہات سے متعلق کسی شکوک و شبہات کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔

علاوہ ازیں وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کی یورینیئم افزودگی کے فرسٹ جنریشن ورک ہارس آئی آر-1 سینٹری فیوجز کو اس حملے میں نقصان پہنچا تاہم انہوں نے مزید وضاحت نہیں دی۔

واضح رہے کہ اتوار کی صبح اس جوہری تنصیب پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں جس کو ابتدا میں اس جگہ کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ کی وجہ سے بلیک آؤٹ قرار دیا گیا تھا۔

کئی اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے اداروں نے بتایا تھا کہ ایک سائبر حملے نے نطنز کو تاریک کردیا اور ایک ایسی سہولت کو نقصان پہنچایا جو نہایت حساس ہے۔

 

خیال رہے کہ 2015 میں ہوا جوہری معاہدے ایران کو صرف 5 ہزار 60 آئی آر-1 مشینوں کے ساتھ ایک پلانٹ میں یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن ایران نے نطنز میں جدید سینٹری فیوجز بشمول آئی آر-2 ایم کے ساتھ افزودگی شروع کر رکھی تھی۔

 

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب عالمی طاقتوں کے تہران کے ساتھ کیے گئے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران اور امریکا سفارتی کوششیں کررہے ہیں جس کی اسرائیل مخالفت کرتا ہے۔

 

اسرائیل کی سخت مخالفت کے باجود امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت ایران کی جانب سے جوہری ایندھن پر پابندی کے ساتھ مکمل پیروی کرنے پر معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا چاہتی ہے جس سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو دستبردار کردیا تھا۔

1158023

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: