IQNA

"قدس کی آزادی قریب ہے":
9:53 - May 07, 2021
خبر کا کوڈ: 3509248
تہران(ایکنا) جھاد اسلامی فسلطین کے رہنما نے «آزادی قدس نزدیک ہے» نشست سے خطاب میں کہا کہ اسلامی دنیا فلسطین کی حمایت کرے۔

یوم قدس کی مناسبت سے «آزادی قدس نزدیک ہے» نشست منعقد ہوئی جسمیں اہم شخصیات جیسےایران میں قایم مقام فلسطینی سفیر«محمد مصطفی جهیر» فلسطینی جہادی تنظیم حماس کے نمایندے «خالد قدومی» جھاد فلسطینی تنظیم کے«ناصر ابو شریف» ایران میں یمنی سفیر «ابراهیم محمد الدیلمی» شریک تھے، نشست تھران کی مسجد امام صادق (ع) واقع میدان فلسطین میں منعقد ہوئی۔

 

ناصر ابو شریف نے نشست سے خطاب میں کہا: یوم قدس اس سال کچھ مسائل کی وجہ سے مختلف انداز میں منایا جارہا ہے۔

 

ابوشریف نے گذشتہ روز فلسطینی جہادی رہنماوں کے خطابات کےحوالے سے کہا: تمام رہنماوں نے خدا کے حضور فلسطینی کاز سے تجدید بیعت کیا اور سب کا ایمان ہے کہ مسئلہ فلسطین صرف سیاسی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایمان اور عقیدے کا مسئلہ ہے۔

 

انکا کہنا تھا: آخری بار جب سردار شهید  قاسم سلیمانی سے ملاقات ہوئی تو وہ کہہ رہا تھا کہ قیامت میں ضرور سوال ہوگا کہ قدس کے لیے کیا کیا؟

ناصر ابو شریف کا کہنا تھا: قدس کے عوام پر درود بھیجنا چاہیے جنہوں نے خالی ہاتھ مسلح دشمن سے

قدس اور محله الشیخ جراح اور  باب العامود میں مقابلہ شروع کیا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ یہاں آباد کار زائیونسٹ کار جو کچھ کررہا ہے وہ سرکاری سرپرستی میں انجام دیا جارہا ہے۔

 

ابوشریف نے کہا کہ یہ سلسلہ ایک نیا قیام اور انتفاضہ ثابت ہوگا بشرطیکہ امت اسلامی حمایت کرے۔

 

ایران میں فلسطینی سفیر کے ڈپٹی محمد مصطفی جهیر نے «آزادی قدس نزدیک ہے» نشست سے خطاب میں ایرانی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا: ایران، رھبر معظم اور امام خمینی کی کاوشوں سے مسئلہ فلسطیین زندہ ہے اور قیام پر روز مضبوط تر ہورہا ہے۔

 

انکا کہنا تھا: انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے قبل مسئله فلسطین کا حاشیے میں ڈال دیا گیا تھا مگر امام خمینی کے فرمان پر یوم قدس سے دنیا میں یہ مسئلہ زندہ ہوا اور آج اکثر ممالک میں یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

 

محمد مصطفی جهیر نے یوم قدس کا تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا: یوم قدس میں کروڈوں کی تعداد میں مسلمانوں کے مظاہرے ہوتے ہیں مگر اس سال کورونا نے سلسلہ متاثر کیا ہے مگر اس کے باوجود پروگرامز ہوں گے۔

 

حماس رہنما خالد قدومی نے «آزادی قدس نزدیک ہے» نشست سے خطاب میں کہا: اس وقت اندورونی طور پر امت کو وحدت کا چیلنج در پیش ہے اور بیرونی حوالے سے زائیونسٹ رژیم اور اس کی حمایت کا چلینج ہے جس میں سرفہرست امریکی حمایت ہے۔

 

خالد قدومی نے کہا کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ اسلامی دنیا جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ہو اور ایران میں تخریبی کارروائیاں اسی کا نتیجہ ہے۔

 

انہوں نے امت کی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا: امام خمینی (ره)‌، مقام معظم رھبری اور  شهید قدس سردار سلیمانی رحمه‌الله علیه نے بخوبی مسئلہ قدس کا اجاگر کیا۔

 

ایران میں یمنی سفیر ابراهیم محمد الدیلمی نے منعقدہ نشست سے خطاب میں کہا: «ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ استقامتی محاز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے اور امریکی و اسرائیلی بلاک انکے ایجنٹوں کی کوششوں کے باوجود شکست کی طرف گامزن ہے«

 

انکا کہنا تھا کہ یمن میں بھی مجاہدین ظالموں سے برسرپیکار ہیں اور ان پر ظلم بھی فلسطینی حمایتوں کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے وہ سات سال سے برسرپیکار ہیں۔

 

ابراهیم محمد الدیلمی نے قدس پر یمن کے انصاراللہ رہنماوں کے خطابات کے حوالے سے کہا: انہوں نے واضح انداز میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی قیدیوں کو فوری آزاد کرایا جائے۔

 

 

الدیلمی نے کہا کہ یہ صرف سیاسی خطابات نہیں تھے آج یمنی عوام عملی طور پر قدس کی حمایت کا ثبوت پیش کریں گے۔

 

یمنی سفیر کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین ایک معیار ہے جو پاک افراد کو شیطان صفت افراد اور مومنین کو منافقین سے جدا کرتا ہے۔/

3969683

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: