
اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران سیز فائر کی خبر آئی، ہم نے ابھی پہلا مقصد حاصل کیا ہے تاہم بطور قوم اور امہ ہم امن امن کی بحالی کی طرف دیکھ رہے ہیں'۔
انہوں نے وولکان بوزکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم آپ سے اور سیکریٹرل جنرل اقوام متحدہ سے امن عمل جاری رکھنے کی توقع کرتے ہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'حالیہ کشیدگی سے جو آگ بھڑکی ہے وہ ابھی پوری طرح بجھی نہیں ہے، اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے صدر جنرل اسمبلی اپنا کردار ادا کریں اور اس آگ کو بجھانے کا واحد حل مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہے'۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'میرا مصر کے ہم منصب سے بھی رابطہ کرنے کا ارادہ ہے اور میں یہاں مصر کی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان سے خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی'۔
انہوں نے کہا کہ 'اس ٹیلی فونک گفتگو میں موجودہ صورتحال اور آنے والے دنوں میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا'۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ 'میں نے وولکان بوزکر کی اسلام آباد میں موجودگی کا فائدہ اتھاتے ہوئے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال اور انہیں مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں مماثلت سے آگاہ کیا'۔
انہوں نے کہا کہ 'مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی حق خودارادیت مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے کہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اقوام متحدہ نے ہم سے وعدہ کیا تھا جو وفا نہ ہوا'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'فلسطین اور کشمیر دونوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے'۔
شاہ محمود نے کہا کہ 'میں نے صدر جنرل اسمبلی کو افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار اور سہولت کاری کے متعلق آگاہ کیا'۔
انہوں نے کہا کہ 'اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ طاقت کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے، آج عالمی برادری پاکستان کو مسئلے کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ مسئلے کے حل کے طور پر دیکھ رہی ہے، یہ گزشتہ چند سالوں میں آنے والی ڈرامائی تبدیلی ہے'۔
اس بات سے متفق ہوں کہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے میں مماثلت ہے، صدر جنرل اسمبلی
اس موقع پر وولکان بوزکر نے کہا کہ 'اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے طور پر میں غیر جانبدار ہوں، لیکن فلسطین جیسے مسئلے پر شاید ہی کوئی غیر جانبدار رہ سکتا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'مسئلہ فلسطین کا حل مذاکرات کی طرف فوری واپسی ہے جس کا مقصد قبضے کا خاتمہ اور دو ریاستوں کا قیام ہے، جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس کے بعد سیز فائر پہلا مقصد ہے لیکن آخری نہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میں اس بات سے متفق ہوں کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ایک جیسا ہے اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو کبھی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لہٰذا یہ پاکستان کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ مضبوطی سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کرے'۔