IQNA

9:23 - May 31, 2021
خبر کا کوڈ: 3509434
لکشدیپ عرب ساگر میں واقع ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنی خاص تہذیب و تمدن کے لیے اپنی نمایاں حیثیت کا حامل ہے، جہاں خواتین کی شرح خواندگی تقریباً96فیصد ہے

روزنامہ سہارا کے مطابق لکشدیپ عرب ساگر میں واقع ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنی خاص تہذیب و تمدن کے لیے اپنی نمایاں حیثیت کا حامل ہے، جہاں خواتین کی شرح خواندگی تقریباً96فیصد ہے، قدرتی مناظر اور امن و امان کا گہوارہ اس وقت خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملک کا سب سے پرامن علاقہ جہاں پر جرائم کی شرح پورے ملک کے مقابلے میں سب سے کم ہے، لیکن وہاں غنڈہ ایکٹ جیسا اسپیشل قانون بنا کر سب کو موجودہ حکومت نے تشویش میں ڈال دیا ہے۔
آج سے تقریباً سو سال پہلے جب ہمارا ملک ہندوستان انگلینڈ کے تسلط میں تھا، اس وقت فروری1919میں ہندوستان کے لیے انگلینڈ حکومت کی امپیریل قانون ساز کونسل نے روولٹ ایکٹ پاس کیا تھا جس کے تحت ہندوستان میں انگریز حکومت کسی کو بھی شک کی بنیاد پر بغیر کوئی مقدمہ چلائے پولیس کے ذریعے گرفتار کرکے قید میں رکھ سکتی تھی، لیکن آخر کیا وجوہات ہیں جو آزادی حاصل کرنے کے تقریباً75برس گزرنے کے بعد لکشدیپ میں ایسے ہی ایک کالے قانون غنڈہ ایکٹ کو نافذ کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ آج لکشدیپ میں غنڈہ ایکٹ کے تحت پولیس کسی کو بھی بغیر عدالت میں مقدمہ چلائے، مروجہ فوجداری قوانین اور کریمنل جسٹس سسٹم کو بالائے طاق رکھ کر ایک سال تک قید میں رکھ سکتی ہے، بلا شبہ یہ قانون جمہوری اصولوں اور انصاف کے قدرتی ضابطوں کے برخلاف ہے۔

اس قانون کے پیچھے کارفرما عوامل پر غور کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ لکشدیپ مرکزی حکومت کے ماتحت ایک ایسا علاقہ ہے جو35جزائر پر محیط ہے جس کی97فیصد آبادی مسلم ہے، ان جزائر کے مجموعے کو ہم لکشدیپ جزائر کے نام سے جانتے ہیں۔ لکشدیپ جزائر کی کل آبادی2011 کی مردم شماری کے مطابق64473تھی، جس کا کل رقبہ تقریباً13مربع میل یعنی32.62کلومیٹر کا ہے۔ لکشدیپ جزائر کی نہ تو کوئی قانون ساز اسمبلی ہے اور نہ ہی کوئی وزیراعلیٰ ہوتا ہے۔ حکومتی ڈھانچہ تین اہم ستون پر منحصر ہوتا ہے۔ لکشدیپ جزائر کا ایک ممبر آف پارلیمنٹ ہوتا ہے جو وہاں کے عوام الیکشن کے ذریعے منتخب کرکے لکشدیپ کی نمائندگی کے لیے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں، وہاں کی علاقائی گورننس یا حکومتی نظم و نسق کے لیے پنچایتی نظام ہوتا ہے نیز تیسرا اور سب سے اہم انتظامی ذمہ دار صدر جمہوریہ کا نامزد کردہ منتظم(ایڈمنسٹریٹر) ہوتا ہے، اس وقت لکشدیپ جزائر کے ایڈمنسٹریٹر گجرات کے سابق وزیرداخلہ پرفل کھوڑا پٹیل ہیں جن کو سابق ایڈمنسٹریٹر دنیش شرما کی موت کے بعد 5دسمبر2020میں صدر جمہوریہ نے نامزد کیا تھا۔21اگست 2010میں جب سی بی آئی نے گجرات کے وزیرداخلہ امت شاہ کو سہراب الدین قتل کیس میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا تو پرفل کھوڑا پٹیل کو گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے امت شاہ کی جگہ گجرات کا وزیرداخلہ نامزد کیا تھا۔ 2014میں جب نریندر مودی ملک کے وزیراعظم بن گئے تو پرفل پٹیل کو2014میں ہی دمن اور دیو جزائر کا ایڈمنسٹریٹر نامزد کردیا گیا،2016 میں پھر پرفل پٹیل دادر اور نگرحویلی جزائر کے بھی ایڈمنسٹریٹر بنادیے گئے، دسمبر2019میں مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ایک بل پاس کرکے فیصلہ کیا کہ 26 جنوری 2020 سے دمن، دیو، دادر اور نگر حویلی کو ایک متحدہ مرکزی ماتحت علاقہ بنایا جائے گا، اس متحدہ مرکزی ماتحت علاقے کا پہلا ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڑا پٹیل کو ہی نامزد کیا گیا۔
آخر وہ کون سے عوامل کارفرما تھے جن کے تحت آرایس ایس سے تعلق رکھنے والے گجرات کے ایک بی جے پی نیتا کو یکے بعد دیگرے متعدد جزائر کا ایڈمنسٹریٹر نامزد ہوتے چلے گئے اور پرفل پٹیل نے ان جزائر میں ایک خاص نقطہ نظر سے اپنی پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کی کوشش کی جن کی وجہ سے ان جزائر میں بدامنی پھیلتی چلی گئی، لکشدیپ میں آج جو بے چینی پائی جارہی ہے اس سے پہلے2019 میں دمن میں بھی بے چینی کا ماحول بنا تھا جب پرفل پٹیل نے دمن کے ساحلی علاقوں پر واقع مقامی لوگوں کے تقریباً90 مکانات کو منہدم کرکے ترقیاتی پروجیکٹ کو شروع کرنے کی کوشش کی تھی، عوام کے احتجاجات ہونے پر دفعہ144کا نفاذ کرتے ہوئے دو سرکاری اسکولوں کو عارضی جیل میں تبدیل کردیا تھا۔
23 فروری2021کو ممبئی کے ایک ہوٹل سے دادر و نگر حویلی جزائر کے ساتویں بار منتخب ممبر آف پارلیمنٹ موہن دولکر کی لاش برآمد ہوئی تھی، خودکشی کے بعد15صفحات کا ایک سوسائڈ نوٹ بھی برآمد ہوا تھا جس میں وہاں کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کے ذریعہ ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، یہ الزام لگایا گیا کہ ان کو25کروڑ روپے دینے کے لیے مجبور کیا جارہا تھا جس کے نہ دینے پر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی جارہی تھی، اصولی طور پر پرفل پٹیل کو استعفیٰ دلاکر عدالت میں حاضر کرنا چاہیے تھا تاہم موجودہ حکومت نے لکشدیپ کا بھی ایڈمنسٹریٹر نامزد کردیا۔
لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد پرفل پٹیل نے وہاں بھی کچھ اہم انتظامی امور میں بڑی تبدیلیاں کیں، سب سے اہم پنچایتی نظام کے اختیارات میں سیندھ لگاتے ہوئے پنچایت کے پانچ اہم شعبوں کے اختیارات چھین لیے جن میں تعلیم، ہیلتھ کیئر، زراعت، پشوپالن اور مچھلی پالن کے شعبہ جات شامل تھے۔ پرفل پٹیل نے لکشدیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا شعبہ قائم کیا۔ مجوزہ ضابطہ مرکزی حکومت کے ذریعے نامزد منتظم اور اس کے واسطے سے مرکزی حکومت کو بے دریغ طاقت عطا کرتا ہے۔جس کے تحت لکشدیپ میں موجود زمین کی ملکیت اور اس کے استعمال کے حق کو براہ راست حکومت اور اس کے ادارے کو اپنی ملکیت میں لینے اور اس میں براہ راست مداخلت کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔اس مسودے کی دفعہ29حکومت کو ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے کسی بھی اراضی کو حکومت کی نظر میں موزوں محسوس ہونے پر استعمال کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
پرفل پٹیل نے لکشدیپ جزائر میں ایک اسمارٹ سٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پورے ملک میں ایک بھی اسمارٹ سٹی بنانے میں یہ حکومت کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس اسمارٹ سٹی اور سیاحت کے فروغ کے لیے لکشدیپ میں شراب کی خریدوفروخت سے پابندی ہٹادی گئی ہے جو کہ لکشدیپ میں ممنوع تھی، یہاں یہ ذکر کرنا اہم ہے کہ پرفل پٹیل گجرات میں شراب پر پابندی کے حق میں اہم آواز ہوا کرتے تھے۔ لکشدیپ میں بیف پر پابندی لگادی گئی ہے، مڈڈے میل سے گوشت کو ہٹادیا گیا ہے، اب لکشدیپ میں گائے کاٹنے یا اس کا گوشت رکھنے پر عمر قید تک کی سزا کے ساتھ ساتھ5لاکھ تک کا جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ تعجب ہے کہ جو حکومت گوا اور نارتھ ایسٹ میں گائے کا گوشت دینے کا وعدہ کرتی ہے، دنیا میں تقریباً سب سے زیادہ بیف گوشت کی سپلائی کرتی ہے، وہی حکومت لکشدیپ میں پابندی لگاتی ہے۔
لکشدیپ جزائر میں بے چینی کی ایک بڑی وجہ وہاں ایک ایسے قانون کا تعارف ہے جس کے تحت اگر کسی شخص کے دوسے زیادہ بچے ہوں گے تو وہ الیکشن نہیں لڑسکے گا، جب کہ پورے ملک میں کسی بھی جگہ ایسا کوئی قانون نافذ نہیں ہے، حتیٰ کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے303ممبر آف پارلیمنٹ میں سے96ایم پی کے تین یا تین سے زائد بچے ہیں۔ آج لکشدیپ جزائر کو جو کہ اپنے خوبصورت قدرتی مناظر اور امن و امان کے لیے جانا جاتا تھا وہاں پر حکومت باہر سے مخصوص سیاسی و معاشی پالیسی کے تحت ایسے ایڈمنسٹریٹر کو مسلط کررہی ہے جو کہ ان کو انگریز کولونی ہونے کا احساس دلارہے ہیں، ترقیاتی پروجیکٹ کی آڑ میں وہاں پر بڑے بڑے ہوٹل قائم کرنا چاہتے ہیں، وہاں کی زمینوں کو بڑے صنعتی گھرانوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور ان عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی آواز کو دبانے کے لیے غنڈہ ایکٹ جیسے قانون کا نفاذ عمل میں لایا جارہا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: