غلطیوں کی اصلاح درست انتخاب سے ممکن

IQNA

امام کی برسی پر

غلطیوں کی اصلاح درست انتخاب سے ممکن

7:17 - June 05, 2021
خبر کا کوڈ: 3509473
تہران(ایکنا) رھبر معظم نے حضرت امام خمینی(رحمه‌الله) کی برسی کے حوالے سے خطاب میں کہا کہ انتخابات میں درست انتخاب سے غلطیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے اور عوام انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

حضرت امام خمینی (رحمه‌الله) کی بتیسویں برسی کے موقع پر رھبر معظم انقلاب نے ٹیلی ویژن پر اہم خطاب کیا ۔ آپ نے فرمایا

ایک اور 14 خرداد آگیا اور ملک کا ماحول اس عظیم شخصیت کی یاد سے لبریز  ہوا  کہ جن کا دل عوام کی محبت اور عاطفے سے بھرا ہوا تھا اور ان کی ایمان گہری ، مضبوط اور روشن تھی۔ ہماری قوم اور ملک کو نہ صرف آج  بلکہ آئندہ نسلوں  بھی اس عزیز  اور عظیم شخصیت  یعنی امام خمینیؒ کی یاد  تازہ رکھنا چاہئے اور یہ ہمارے لئے ضروری ہے۔

آج میں امام خمینی کے اہم ترین ابتکارات پر روشنی ڈالوں گا۔

''اسلامی جمہوریہ ''امام  خمینی کا ایک عظیم نظریہ تھا اور آج اس ملک کا نظام اسی نظریے کے تحت اپنی شناخت پیدا کرچکی ہے۔

دو دہائیوں میں دنیا کے انقلابی اور تشکیل یافتہ  نظام ہائے حکومت میں سے کوئی بھی اسلامی انقلاب ایران  جیسا  پائیدار  نہیں رہا۔ اسلامی انقلاب کے شروع سے ہی بدخواہوں اور بدگمانوں نے پیش گوئی شروع کی تھی کہ یہ انقلاب دو ماہ  یا دو سال سے زیادہ جاری نہیں رہ سکتا۔ لیکن امامؒ کی مدبرانہ اور خردمندانہ قیادت نے ان کی بولتی بند کردی اور امام کے عمر کے آخری ایام تک ان بدخواہوں کی باتیں دم تھوڑ چکی تھی لیکن امام کی رحلت کے بعد وہ دوبار سر اٹھانے لگے اور اس نظام کی پائیداری اوپر انگلی اٹھانا شروع کیں۔  بہت سے گروہوں، احزاب   باہر بیٹھ کے دشمنوں کے وسیلے سے اسلامی جمہوریہ کے زوال کی پیش گوئی کررہے تھے جیسا کہ آپ نے ایک دو سال پہلے بھی دیکھا کہ ایک امریکی اعلیٰ  عہدیدار نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے انقلاب کی 40 ویں سالگرہ کو نہیں دیکھ پائے گا۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ کسی نظام کے اوپر اتنی  ناکام سازشیں ہوئی ہو جتنی  انقلاب اسلامی کے اوپر ہوئی ہے ۔ جو یہ پیش گوئیاں کرتے تھے وہ انقلاب اسلامی کو دوسرے انقلاب کی طرح دیکھتے تھے۔ ایشیا، یورپ اور فرانس کے انقلاب کو دیکھے کہ کتنی جلدی اپنی فتح کے چند مدت بعد زوال کا شکار ہوئیں۔ ۔ لہذا  نظام کے بدخواہان اسلامی انقلاب کو دوسرے ناکام انقلاب سے موازنہ کرتے تھے۔ لیکن امام خمینی کی مدبرانہ سیاست کے نتیجے میں نہ صرف یہ انقلاب شکست سے دوچار نہیں ہوئی بلکہ دن بہ دن ترقی کی منزلیں طے کرتے رہیں اور مغربیوں کی رکاوٹوں کے باوجود شان و شوکت سے زندہ ہے۔

آج اسلامی جمہوریہ ایران   چالیس سال پہلے کی نسبت ہر شعبے میں کامیاب ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کامیابی کا راز کیا ہے اور  کیونکر یہ نظام دوسرے انقلابوں کی طرح زوال پذیر نہیں ہوا؟ اس کا راز دو  الفاظ میں پوشیدہ ہے۔ اسلامی۔ جمہوریہ۔/ وہ نظریہ جو ان دو لفظوں سے وجود پاتے ہیں، ان سب کامیابیوں کا سرچشمہ ہے۔

امام خمینیؒ  کا یہ نظریہ تھا کہ ایک اسلامی جمہوریہ طرز حکومت کو تشکیل دیں۔ انہوں نے اپنی انقلاب سے  دنیا میں پائے جانے والے مختلف نظریات کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ کے نظریہ کا نفاذ کیا۔ امام خمینی بہت سے شعبوں میں ایک عظیم شخصیت تھا۔ آپ کی سیاسی بصیرت، آپ کی اسلام سے آشنائی اور معنویت اور حاکمیت اسلامی کے حقیقی اصولوں  کا ا دراک  اسلامی جمہوریہ کی کامیابی کا ضامن ہےاورآپ نے  لوگوں کو بھی سمجھایا اور ان کی حمایت حاصل کیں۔ آپؒ کی عجیب ایمانی طاقت اور آپ کے نظریہ جمہوریہ اور اسلامیہ اور آپ کی ان دونوں الفاظ سے انس و آشنائی، اس نظریہ کی کامیابی کا مرہون منت ہے۔

انقلاب کے شروعات میں  حکومت اسلامی اور ڈیموکراسی، ان دونوں کے مخالفین بہت زیادہ تھے۔ اسلامی حاکمیت جو نظام زندگی کو چلاتا ہے، اس کے مخالفین کہتے تھے کہ یہ نظریہ اس قدر اہمیت نہیں رکھتا کہ اس کو اجتماعی طور پر نافذ کیا جائےاور اس نظام کو صرف نماز اور روزہ کی حد تک محدود کرچا چاہئے ۔

دوسری طرف  وہ گروہ وہ تھا جو دین کو سیاست سے الگ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ دین کو سیاست میں دخل ہیں دینا چاہے ،۔ یہ  وہ لوگ ہے جو مذہبی سیکولر ہے اور اسلامی حاکمیت کی ذرا سی بھی ادراک نہیں رکھتے۔

ایک اور مخالف گروہ وہ تھا جو اسلامی جمہوریت کے نظریے کو پسند نہیں کرتا تھا۔

امام خمینی نے اللہ کے توکل سے اور لوگوں کی حمایت سے اس نئے ابتکارانہ نظریہ کو تحقق بخشا اور کامیاب بنایا۔ یہ ایک عالمانہ استنباط ہے اور محظ جذباتی نظریہ نہیں ہے۔  یہ نظام حکومت قرآن کے رو سے   بالکل درست ہے۔ چنانچہ جب آپ قرآن میں دیکھتے ہیں کہ جہاد، تجارتی معاملات، خارجی معاملات ، عدل و انصاف کے بارے میں متعدد آیتیں آئی  ہے جو اسلامی نظام حکومت حق میں استدلال کرتے ہیں ۔ رسول اللہ کے دور میں جب یثرب کے نمائندے پیغمبﷺر کو دعوت دینے آئے تو آپﷺ نے ان سے یہ عہد لیا کہ وہ  اپنے اندر عدل و انصاف  کو عام کرینگے اور انہوں نے بھی آپ کی شرط مان لیں اور مدینہ میں اسلامی حکومت برپا ہوا۔ لہذا دین کی حاکمیت اورعوام کی حاکمیت ایک دوسرے کے ساتھ  لازم و ملزوم ہے  جو ہر صاحب ایمان اور   دین مبین اسلام کے ماننے والے کو اس کی پیروی کرنی چاہئے۔

اسلامی حکومت میں عوام کی حمایت  نہایت ضروری ہے اور روایات میں  اسلامی حکومت کے معاملے میں عوام کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہے۔ امیرالمومنین امام علی  علیہ السلام نے صفین کے خطبے میں  ارشاد فرمایا؛ اللہ تعالی کا سب سے اہم قرض لوگوں پر یہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں حق کی حکومت لانے میں کردار ادا کریں۔ امر بالمعروف حکومت حق لانے میں نہایت ضروری ہے ۔ اسی طرح  معاشرے میں خرافات سے مقابلہ بھی عوام کی  ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے جو وہ اپنے علماء کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔  یہ ذمہ داری مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے انجام دی جاتی ہے، اور  آج انتخابات وہ فریضہ ہے جو  عوامی  سطح پر انجام پانا نہایت ضروری ہے۔  حاکمیت اسلامی دینی معارف پر منحصر ہے، کیونکہ معارف دینی ان تمام تر خوبیوں کا حامل ہوتا ہے جو ایک اسلامی حکومت کی تشکیل اور کامیابی کیلئے درکار ہوتا ہے اور   عوام کی ذمہ داری بھی اس معاملے  میں شمار ہوتا ہے۔ اسلامی حکومت میں حاکم اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔

اسلامی جمہوریہ کا نظام جو امام خمینی کی قیادت میں  تشکیل پائی، اس صدی کی ایک نئی اور عظیم ابتکار ہے۔ اگر اسلامی ڈیموکراسی دین میں نہ ہوتا  تو امام قطعا یہ نظام حکومت متعارف نہ کراتے۔ امام نے  دین کی خاطر  نو اندیشی  کی اور اس منطقی اور پائیدار نظریہ  سے عوام کو جو صدیوں سے ظلم سے ستم سہہ رہے تھے،  کو اس مصیبت سے نکالا اور نوجوان نسل کو سمجھایا کہ  آپ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر کے ملک کی فلاح و بہبود کیلئے کردار ادا  کرسکتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے شہنشاہی طرز حکومت میں عوام کو حق حاصل نہیں تھا کہ وہ ملکی معاملات میں  کردار ادا کریں۔ امام نے اپنی جہشی تحریک سے  انحصار طلب لوگوں کو خودمختار بنایا اور چندہزار سالہ سلطنت کا تختہ الٹ دیا اور  ستمدیدہ عوام کو دن بہ دن خودمختار اور مضبوط بنایا۔ ایرانی عوام کی صبر و استقامات نے ہر محاذ پر  انہیں کامیابی دلائی، جیسا کے آپ نے دیکھا آٹھ سالہ جنگ میں ایک طرف تمام تر جنگی سازوسامان  سے لیس دشمن تھا اور اس طرف، نہایت قلیل دفاعی وسائل سے ایرانی عوام  نے پھر بھی میدان جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ یہ تمام  کامیابیاں اسی دو لفط ( اسلامی جمہوریہ)  کی مرہون منت ہیں۔ اور اسلام ،جمہوریہ کے بغیر اور جمہوریہ ، اسلام کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے اور بے مفہوم بن جاتا ہے۔ آج بھی ملک کے تمام تر مشکلات کا گرہ گشا یہی دولفظ ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ ہر دشوار شرائط میں جب بھی عوام  میدان میں اتری، چاہے  معاشی ترقی ہو  یا سیاسی بحران، عوام نے  حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور ملک کو بحران سے نکالا ۔ اگر حکومت بھی اسلامی اقدار کو سیاسی، ثقافتی، معاشی اور اجتماعی معاملات میں  عوام کی مدد سے  نافذ کریں، تو ملک کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت  پیدا کرسکتی ہے۔

اسلام اور ڈیموکراسی کے بارے میں امام خمینی  کا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ امام کی نظر میں اسلام ایک عدالت خواہ نظام ہے جو استکبار  اور فساد سے سخت ٹکر لیتے ہیں۔ وہ اسلام جو امام خمینی اس پر ایمان رکھتے ہیں، استکبار اور فساد کے دشمن ہے، کرپشن کے دشمن ہے۔ اسلامی نظام کی خاصیت ہی یہی ہے کہ استکبار سے اعلان جنگ اور مظلوموں کو ساتھ دیتے ہیں اور اشرافیہ گری کا بھی مخالف ہے۔ امام نے اپنے ایک خط میں جو ایک ملکی عہدیدار کے نام لکھا تھا، " آپ کو  دکھانا کرنا ہوگا کہ اپنی عوام کے ذریعے  امریکی اسلام اور استکباری اسلام  کے مقابلے میں کامیابی حاصل کریں"۔ امام خمینی انتخابات کو بھی ڈیموکراسی کا ایک لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے انتخابات کو دینی فریضہ تعبیر کیا تھا۔

امام کے وصیت میں آتا ہے کہ انتخابات میں عدم شرکت بعض امور میں گناہ کبیرہ میں سے شمار ہوتا ہے۔ ایک اور جگہ پر فرمایا، دنیاوی ترقی اور آنے والی نسل کی اصلاح کیلئے عوام کی مشارکت در حقیقت اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ امام خمینی کے گرانبہا افکار کو ایرانی قوم نے پوری طرح حفاظت کی ہے اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا یا ہے۔ دشمن نے جب بھی اس ملک کے خلاف سیکیوریٹی اور سیاسی، فکری و ثقافتی سازش کیں تو عوام نے بھرپور مقابلہ کرکے ان کے عزائم خاک میں ملادیے۔ لیکن بعض اوقات سادہ لوح لوگ دشمن کی مکاریوں اور فریب میں آتے ہیں اور دشمن کے اسلامی حکومت مخالف نظریے کی توجیہ کرتے ہیں۔ بعض لوگ دشمن کا آلہ کار بن کر دین کی قداست کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دشمن  کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ اسلامی حکومت کو جڑ  سے اکھاڑ پھینکے۔

صدارتی انتخابات میں اہلیت و عوام کی شرکت

آئین میں صدر کے وظائف اور شرائط تعین  کی ہے۔ صدر ایک ایسا شخص کو بنانا چاہئے کہ ملکی مفادات کا تحفط کر سکے اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے موثر کام کرنا چاہئے اور تقوٰ ی بھی رکھنا چاہئے۔

آج کل انتخابات کی گہاگہمی ہے لیکن بعض لوگ نادانستہ طور پردشمن کا آلہ کار بن کر کوشش کرتے ہیں کہ اس انتخابات کو ناکام بنا دے۔ بعض لوگ معاشی پابندیوں کی وجہ سے  اس شش و پنج میں ہے کہ انتخابات میں شرکت کریں یا نہ۔ انتخابات میں شرکت سے اجتناب کرنا درست نہیں ہے۔ اگر ملک پر کوئی بحران آتا ہے تو ہمیں ایک ایسا باصلاحیت مقتد ر شخص کو منتخب کرنا ہوگا جو ہمیں اس بحران سے نکال دے نہ کہ انتخابات میں شرکت  کرنے سے پیچھے ہٹ جائے۔ البتہ  اس شخص کے انتخاب میں محتاط رہنا ہوگا۔

صدارتی امیدواروں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسا وعدہ عوام سے نہ کریں کہ بعد میں اسے نہ نبھائیں۔ اس سے عوام کا انتخابات میں دلچسپی ختم ہوجاتا ہے۔   انتخابات کے  کمپین  کے دوران بلند و بانگ وعدوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔

زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو چاہئے کہ وہ بھی انتخابات میں شرکت کریں اور دوسروں کو بھی انتخابات میں شرکت کرنے کی تلقین کریں۔ یہ آپ کا اور ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔

انتخابات جیتنے والے امیدوار کو چاہئے کہ وہ ملک کی فلاح و بہبود کا سوچے اور فساد سے مقابلہ کرنے کو اپنا فریضہ سمجھے۔ انہوں نے دعا کی خدا امام کو اولیا کے ساتھ محشور اور شہدا کو ہم سب سے راضی کرے۔

 

3975570

 

نظرات بینندگان
captcha