
رپورٹ کے مطابق تیونس یونیورسٹی کی محقق اور مفسر قرآن هند شلبی(چلبی) جمعرات کو دار فانی سے کوچ کرگئی۔
تیونسی خاتون نے حجاب میں ملک میں حجاب پر پابندی کے حوالے سے وقت کے دو حکمرانوں «حبیب بورقیبه» اور «زینالعابدین بن علی» کے سامنے ڈٹ گئی تھیں۔
هند شلبی تیونسی خاتون پہلی خاتون تھی جنہوں نے یونیورسٹی میں حجاب کیا۔ بچپن میں قرآن مجید کو حفظ کیا اور پردے کے ساتھ زیتونہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی اور پی ایچ ڈی کیا۔
سال ۱۹۸۱ کو اسی یونیورسٹی میں وہ بطور محقق اور استاد منصوب ہوئی۔
هند شلبی نے زندگی تحقیقات میں گزاری اور حجاب کے ساتھ میڈیا سے دور رہتی تاہم معاشرے میں علمی کردار ادا کرتی رہی۔
تیونسی خاتون نے اسلامی اور قرآنی حوالے سے کافی کام کیے جنمیں مشہور«تفسیر علمی قرآن، نظریات و کارآمدی» اور «افریقہ میں قرائتهای قرآن» قابل ذکر ہے.
هند شلبی نے سال ۱۹۷۵میں جب «حبیب بورقیبه» صدر تھے انکے سامنے ایک تقریب میں جہاں دیگر سفارت کار اور شخصیات شریک تھیں اسلام میں خواتین کے کردار کے حوالے شاندار تقریر کی اور بورقیہ سے ہاتھ ملنے سے انکار کیا جس سے انکی علمی پیشرفت میں اچھی خاصی رکاوٹ پیدا کی گیی۔

اس واقعے کے بعد انہوں نے «الاحوال الشخصیة» مقالہ لکھا اور بورقیبه کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خلاف قرآن وسنت قرار دیا۔
اس باپردہ خاتون نے سال ۱۹۸۱ میں جب پردے پر پابندی کا بل پاس کیا گیا تو انہوں نے تیونس کی روایتی پردہ
«سفساری» کا استعمال شروع کیا جو ابریشمی حجاب تھا اور سرسے پاوں تک ڈھانپتا تھا۔
بن علی کی حکومت میں جب حجاب پابندی پر عمل شروع کیا گیا تو ھندشلبی نے اس کی سخت مخالفت کا اعلان کیا اور روایتی سفساری پہن کر حکومت کو چیلنج کیا۔/