
گذشتہ شب ہزاروں سوشل ایکٹویسٹوں نے بحرینی عوام کے سیاسی حقوق کے لیے «الحق_السیاسي» کی عبارت پر تاکید کرتے ہوئے حقوق کا مطالبہ کیا۔
اس ھیشٹیگ کو پانچ ہزار سے زاید ری ٹویٹ کیا گیا ہے اور یہ جملہ بحرینی رہنما آیتالله شیخ عیسی کے خطاب سے لیا گیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے اور اس کے لیے سب سے پہلے سیاسی حقوق ضروری ہے۔
بحرینی سوشل ایکٹویسٹوں نے آزاد سوچنے والوں سے سوال کیا ہے:
-کیوں سال ۲۰۱۱ کو لاکھوں بحرینی سڑکوں پر نکل آئے؟!
-وہ حاکمیت سے کیا مانگ رہے تھے؟
-ان مطالبات کا جواب ٹینک اور اسلحوں سے کیوں دیا گیا؟
- انقلاب بحرین کے آغاز سے اب تک ۱۹۰۰۰ کو قید کیوں کیا گیا؟
بحرینی عوام کے « سیاسی حقوق» کو پامال کیوں کیا جاتا ہے؟ لوگ صدر کے انتخاب سے محروم کیوں ہیں اور نمایش پارلیمنٹ کی کیا حیثیت ہے؟
مختلف شخصیتوں نے اس مہم میں بحرینی عوام کے حق پر تاکید کی ہے۔ سوشل ایکٹویسٹ محترمہ ابتسام الصائغ، نے عوام کے حقوق سے غفلت کو بدترین جرم قرار دیا ہے اور قانون اساسی پر عمل کی تاکید کی ہے۔ تحریک حق کے ترجمان عبدالغنی خنجر نے ٹویٹ کیا ہے: عوام کے حقوق کا مطالبہ بنیادی حق ہے۔ جمعیت الوفاق کے
حجةالاسلام شیخ حسین الدیهی نے سیاسی حقوق کے فقدان کو بدترین غلطی قرار دیا ہے۔
سوشل ایکٹیویسٹ اور تجزیہ کار علی الفایز نے سوال کیا کہ سیاسی حقوق کیوں؟ انکا کہنا تھا کہ اس مطلب ہے حکومت کو عوام کا خادم ہونا چاہیے نہ مالک اور حکومت کو عوام کے حق پر توجہ دینی ہوگی۔
جمعیت الوفاق کے پیج نے ٹویٹ کیا ہے کہ عوام کا سیاسی حق بنیادی مطالبہ ہے اور حکام کو اس کا جواب دینا چاہیے اور قید و بند اور تشدد کی پالیسیاں اور انکی شہریت کو سلب کرنا انصاف نہیں۔
بحرینی عوام کی تحریک صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ تھی بلکہ انہوں ن مختلف علاقوں میں مظاہرہ بھی کیا اور سیاسی حقوق کے نعرے لگائے۔
قابل ذکر ہے کہ عرب اسپرنگ کے آغاز سے لوگ سڑکوں پر حقوق کے لیے مظاہرے کررہے ہیں جبکہ حکومت انکے مطالبات کا جواب تشدد اور قید و بند سے دے رہی ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کے دعویدار اکثر ممالک اور تنظیموں نے ان مظالم پر آنکھیں بند کی ہیں جبکہ بعض ممالک نے آل خلیفہ کے مظالم کو آواز بلند کی ہے، برطانیہ کی مجلس عوام نے بحرین میں قیدیوں سے بدسلوکی کو بدترین قرار دیا ہے اور برطانوی حکومت سے اس ملک میں سرمایہ کاری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔