نفرت انگیز جرائم اور تعصب و تشدد اب قابل گرفت ہوگا اور اس بل پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گیی ہے کہ اب نفرت و تشدد والے اقدام پر ڈھائی سو ڈالر تک جرمانہ ادا کرنے پڑ سکتا ہے۔

اس بل کے مطابق جو بدھ کو لازم الاجرا کیا گیا ہے اس کے بعد جو عوامی مقامات میں قومیت و عقیدے کے خلاف نفرت انگیز اقدام کرے گا اس جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
سزاوار افراد کو ڈھائی سو جرمانہ مقرر کیا گیا ہے اور مکرر جرم پر جرمانہ کی رقم دوگنی ہوگی اور اس بل کو سٹی کونسل کی جانب سے لازم الاجرا کردیا گیا ہے تاہم فائنل منظوری کے لیے اس اگلے پیر کو عالی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔
کینیڈا جہاں اسلام فوبیا میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے اس اقدام پر کینیڈا کی مسلم کونسل (NCCM) پر خوشی کا اظھار کیا ہے۔
کونسل کی رکن فاطمه عبدالله کا کہنا تھا: یہ ایک مثبت قدم ہے کیا مزید اقدام کی ضرورت ہے؟ جی ہاں بالکل۔
عبدالله کا کہنا تھا کہ کونسل اس پر کام کرے گی اور مسلمان خواتین کی توہین پر کونسل کی کڑی نظر ہے۔
اس قرار داد کو اپریل میں سٹی کونسل کے ایک رکن نے پیش کیا تھا، اسکات مک کین نے ایڈمنٹن میں مسلمان محجبہ خواتین پر واقعات کے تناظر میں اس قرار کو پیش کیا۔
مک کین نے نے کہا تھا کہ حالات مناسب نہیں کہ ایڈمنٹن میں کچھ لوگ نفرت و تعصب کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔
ایڈمنٹن میں مسلمان خواتین پر حملوں کے کافی واقعات رونما ہوچکے ہیں اور آخری واقعے کو جون میں سنٹ البرٹ میں ایک مسلمان خاتون کو زخمی کیا گیا۔
اسی حوالے سے ایڈمنٹن کی مسجد میں مسلمان خواتین کو دفاع کا کورس پیش کیا گیا کہ وہ ان واقعات کے مقابلے اپنی حفاظت کیسے کریں۔