جرمن اسکول میں اسلامو فوبیا

IQNA

جرمن اسکول میں اسلامو فوبیا

9:18 - August 16, 2021
خبر کا کوڈ: 3510034
تہران(ایکنا) بایرن حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکولوں میں تعلیمات اسلامی کورس پیش کیا جائے تاہم جرمن آلٹرنیٹیو پارٹی نے اس پر غصے کا اظھار کیا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق بایرن میں اسلامی کورس کے حوالے سے معاملات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ وزارت تعلیم نے نورنبرگ یونیورسٹی کے تعاون سے ۳۵۷ اسکولوں میں چودہ ہزار طلباء کے لیے اسلامی کورس پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے ایک اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔

 

اس پروگرام کا مقصد دین اسلام کو ایک سسٹمٹیک طرز کے ساتھ سرکاری سطح پر پڑھانے کا سلسلہ شروع کرنا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے پر آلٹرنیٹیو پارٹی کے نمایندے شدید غصے کا اظھار کررہے ہیں انہوں نے حال ہی میں مطالبہ کیا تھا کہ اسلامی کورسز کو مدارس سے نکال دیا جائے۔

 

مذکورہ نمایندوں نے شکایت کی ہے کہ اس اقدام سے دیگر مذاہب جیسے بودھا اور یہودی فکر کریں گے کہ اسلام کو ان پر ترجیح دیا جارہا ہے ۔

 

اس کے باوجود فاینل فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے اور دیکھنا پڑے گا کہ عدالت اور بنیادی قوانین کے حوالے سے بایرن حکومت کے فیصلے پر کیا حکم دیا جائے گا۔

 

جرمن آلٹر نیٹیو پارٹی دائیں پارٹی کا حصہ شمار ہوتا ہے جو سال ۲۰۱۳ کو قایم کی گیی ہے جو یورو کرنسی سسٹم کی بھی مخالف ہے اور مسلم سرگرمیوں کو بھی محدود کرنے کی حامی ہے۔/

3990858

 

نظرات بینندگان
captcha