تیونس میں حلال سیاحت کے چیلنجیز

IQNA

تیونس میں حلال سیاحت کے چیلنجیز

9:46 - August 24, 2021
خبر کا کوڈ: 3510085
تہران(ایکنا) شمالی افریقہ کے ملک میں سیاحت کے بیشمار مواقع ہیں اور اس سے سیاحت کو فروغ مل رہا ہے مگر حلال ہوٹلوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

القدس العربی کے مطابق تیونس کے صدر قیس سعید کی اصلاحات سے اسلامی سیاحت کو بہترین انداز میں فروغ مل رہا ہے۔

 

تیونس کے سوشل میڈیا میں بعض اسلامی ہوٹلوں کی تعطیلی کی مذمت اور اسکو ملک کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی قرار دی جارہی ہے۔

 

دوسری جانب بعض زرایع کا کہنا ہے کہ تیونسی صدر اسلامی شدت پسندوں کو قصدا نشانہ بنانے کی خاطر ایسے اقدامات کررہے ہیں۔

 

تیونسی میڈیا کے مطابق گذشتہ دنوں طبرقہ شہر میں ایک سیاحتی مقام کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بند کردیا گیا، کہا جاتا ہے کہ وہاں پر حلال سیاحت کی وجہ سے سیاحوں کو رش لگ گیا تھا جہاں نماز جماعت اور تبلیغی محلفوں کی بھی اطلاعات ملی۔

 

رپورٹ کے مطابق حمام شہر میں بھی الاعزاز نامی مقام کو کورونا ایس او پیز کے بہانے بند کردیا گیا ہے۔

 

وزارت سیاحت کے مطابق قبرطہ شہر کے سیاحتی مقام کی بندش کی خبریں بے بنیاد ہیں اور مذکورہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف ان افراد کو جگہ دی جاتی ہے جنہوں نے پہلے سے بکنگ کررکھی ہے اور تمام قوانین پر عملدرآمد کی بھی تاکید کی گیی ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل کے صحن میں نماز جماعت جس پر اعتراضات جاری ہیں واضح کرنا ضروری ہے کہ تیونس ایک آزاد ملک ہے جہاں سب کا احترام کیا جاتا ہے اور نماز کی پابندی کہاں ہے لہذا ہماری تاکید ہے کہ ہم کسی پر زبردستی عقیدہ تھوپنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

تیونس میں حلال سیاحت کے چیلنجیز

تیونس میں سول سوسائٹی کی ایک تنظیم نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظھار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ملک میں شددت پسندی کو فروغ مل سکتی ہے۔

 

تنظیم کا کہنا تھا کہ سر عام نماز باجماعت اور تبلیغی محافل سے شدت پسندی کو فروغ ملے گی خاص کر ان حالات میں جہاں افغانستان میں طالبان کو فتح  مل چکی ہے اور اس سے تیونس میں اخوان السملمین کو بھی شہ مل سکتی ہے۔

 

مذکورہ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ان مقامات جہاں پر شدت پسندی اور تکفری سوچ کو پروان ملنے کو موقع ملتا ہے جنمیں ہوٹل اور مسافر خانے شامل ہیں انکو فوری طور پر بند کیا جائے۔

 

مذکورہ تنظیم کے مطابق تیونس میں عالمی علما کونسل کے مرکز، مختلف مدرسے اور بچوں کے بعض اسکول جہاں قرآنی دروس کا اہتمام ہے ان سب کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔

 

تیونس میں سیاحت پر بحث و مباحثہ عرصے سے جاری ہے اور مختلف شہروں میں اسلامی یا حلال ہوٹلوں کو کھولا گیا ہے جہاں اسلامی سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔

 

تیونس کی النھصہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی جس کے حمایت یافتہ وزیراعظم کو حال ہی میں عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے انہوں نے الحمامات میں ایک حلال ہوٹل کا افتتاح کیا جس پر شدید اعتراضات جاری ہیں۔

 

 

حلال سیاحت میں ہوٹلوں میں شراب و دیگر حرام چیزوں پر پابندی ہے اور سوئمنگ و دیگر حمام وغیرہ میں خواتین و مردوں کے الگ الگ جگہیں مخصوص ہیں۔/

3992551

نظرات بینندگان
captcha