
ایکنا نیوز کے مطابق جرمن پریس مرکز کے تعاون سے «ایمان اور کرونا» کے موضوع پر نشست منعقد کی گیی جسمیں مختلف مذاہب کے نمایندے شریک تھے جنہوں نے کورونا بحران میں خدا پر ایمان کے حوالے خطاب کیا۔
اسلامیشه تسایتونگ ویب سائٹ پر رپورٹ میں لکھا ہے:
سیاسی امور کے ماہر کارولین هیلنبرانڈ جو ایک محقق بھی ہے انہوں نے گفتگو میں کہا: کورونا کے دوران جرمنی کے لوگ خوف اور انہونی ماحول سے روبر ہیں اور ان حالات میں جو دل کو سکون اور آرام دیتا ہے وہ بلاشک ایک خدا پر ایمان ہے۔
هیلنبرانڈ کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۲ فیصد لوگوں اعتراف کرتے ہیں کہ کورونا کے دوران خدا پر ایمان میں اضافہ ہوا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ انسانوں کا تیار کردہ معنویت کے حامیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے تاہم چونکی اس کی بنیاد مضبوط نہیں چند دن بعد اس کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے اور میرے خیال میں صرف آسمانی مذاہب اہم ڈائیلاگ پیش کرتے ہیں۔
ایک اور مقرر اور دانشور یاسمین المنار نے کورونا بحران اور ایمان کے حوالے سے کہا کہ جرمنی میں آدھے ملک کے لوگ مذہب پر عقیدہ نہیں رکھتے تاہم انکو سوچنا ہوگا۔
جرمن صحافی چایم گوسکی نے نشست سے خطاب میں کہا: مذاہب میں ہم آہنگی ہونی چاہیے اور کورونا بحران میں مذہبی امور کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جب کہ اس دوران یورپ میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ عبادت کے مراکز اور عبادات کو کم اہمیت پیش کریں۔
معروف فوٹوگرافر جولیوس ماتوشیک نے نشست سے خطاب میں کہا: جرمنی میں میڈیا مذاہب سے بدظن کرنے میں ملوث ہے جنکے پاس یہودیت اور اسلام سے متعلق بہت کم معلومات موجود ہے اور میڈیا جو تصویر مذہب کے حوالے سے پیش کرتا ہے کسی طور درست نہیں۔/